منیٰ کی 'البیعہ' مسجد تاریخ کے آئینے میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سر زمین حجاز اپنے تاریخی مقامات کی تنوع کے حوالے سے اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ اسی سر زمین میں وادی منیٰ کے بارے میں تو شائد ہر کوئی جانتا ہو گا مگر وادی میں موجود جامع مسجد "البیعہ" کی تاریخی اہمیت سے کم ہی لوگ واقف ہیں۔

ھجرت مدینہ سے قبل وادی منیٰ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج اور یہود کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا۔ یہ معاہدہ اسی مقام پر لکھا گیا جہاں یادگار کے طور پر بعد میں مسجد البیعہ تعمیر کی گئی۔

وادی منیٰ اور مسجد البیعہ سے مدینہ طیبہ پانچ سو کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ آج سے چودہ سو سال قبل اوس اور خزرج کے قبائلی عمائدین سیکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرکے وادی منیٰ پہنچے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ تاریخی معاہدہ کیا جسے اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب کہا جا سکتا ہے۔ تاریخ میں اسے "بیعت عقبہ اولیٰ" بھی کہا جاتا ہے۔

یہیں پر یثرب [مدینہ منورہ] کے متحارب قبائل اوس اور خزرج نے مدتوں سے جاری اپنی لڑائیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے رسول اللہ کے ساتھ عہد وفا باندھا۔ بیعت کے بعد اوس اور خزرج کے سرداروں نے مشترکہ طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ آنے کی دعوت دی۔ آپ اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے جہاں ان دونوں قبائل کے لوگوں نے آپ کا استقبال کیا۔

مدینہ میں آٹھ سال قیام کے بعد آپ اپنے میزبان قبائل کے 10 ہزار جانثاروں کے ساتھ فتح مکہ کے لیے واپس ہوئے اور خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد دوبارہ مدینہ چلے گئے۔

ایک سو چولیس ھجری میں عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے یہاں ایک مسجد تعمیر کرائی جسے 'مسجد البیعہ' کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد اس مسجد کی کئی بار تعمیر اور مرمت کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں