لبنانی فوج سے 'لوٹے' ہتھیاروں کی تصاویر کا اجراء

مصالحت کے آنے والے علماء وفد پر فائرنگ، 5 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

القاعدہ سے منحرف ہو کر شام اور عراق کو اپنی جنگجو کارروائیوں کا مسکن بنانے والی تنظیم 'داعش' نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لبنانی فوج سے چھینے والا اسلحے کی تصاویر مشتہر کی ہیں۔

'لبنانی فوج کا مال غنیمت' کے عنوان سے جاری کردہ تصاویر میں مٹی سے اٹی فوجی چیپ دیکھی جا سکتی ہے جسے داعش کے بقول لبنانی فوج سے چھینا گیا ہے۔

ادھر سرحدی قصبے عرسال میں ایک بچی کی ہلاکت اور سات فوجیوں سمیت 9 افراد کے زخمی ہونے کے بعد عرسال میں جنگجووں اور لبنانی فوج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ حالیہ لڑائی کے بعد اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

'العربیہ' کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق الشیخ سالم الرافعی اور ان کے مصاحبین ریڈ کراس کی ایک گاڑی میں عرسال سے نکل چکے ہیں۔ الشیخ سالم نے علاقے سے نکلنے کا فیصلہ دراصل میونسپلٹی پہنچنے والے علماء کے ایک وفد پر حملے کے بعد کیا۔ یہ علماء متحارب فریقوں میں صلح کرانے کی غرض سے عرسال آ رہے تھے۔ علماء وفد پر حملے میں پانچ دینی رہنما زخمی ہوئے۔

اس سے پہلے لبنانی فوج نے مشتبہ مسلح گروہوں کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ لبنانی حکام ان تنظیموں کو دہشت گردی اور تکفیری قرار دے رہے ہیں۔

سیاسی محاذ پر لبنانی وزیر اعظم تمام سلام نے اپنی نشری تقریر میں حکومت پر زور دیا ہے وہ فوج کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 'دہشت گردوں سے کسی قسم کی نرمی نہیں کریں گے۔ مسلح جتھوں کے پاس عرسال اور اردگرد علاقوں سے انخلاء کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے تاکہ مملکت اپنی پوری ریاستی مشینری استعمال کر سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں