.

کینیڈین اسرائیلی عورت داعش مخالف جنگ میں شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک کینیڈین نژاد اسرائیلی عورت بھی شام اور عراق میں کرد جنگجوؤں کی داعش کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئی ہے۔

اسرائیلی ریڈیو نے سوموار کو اطلاع دی تھی کہ اس عورت کی عمر اکتیس سال ہے اور وہ تل ابیب کی رہائشی ہے۔اس نے صہیونی فوج میں عسکری تربیت حاصل کررکھی ہے۔کینیڈا کی وزارت خارجہ امور نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ ''ہم ایک کینیڈین فرد کی کرد فورسز میں شمولیت سے آگاہ ہیں''۔

اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عورت نے انٹرنیٹ پر کرد جنگجوؤں سے رابطہ کیا تھا۔پھر وہ عراق چلی گئی تھی اور اس نے وہاں شامی سرحد کے نزدیک کرد جنگجوؤں کے ایک تربیتی کیمپ بھی شرکت کی تھی۔

اس نے ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کرد جنگجوؤں کے حوالے سے کہا ہے کہ ''وہ ہمارے بھائی ہیں۔وہ اچھے لوگ ہیں۔وہ زندگی سے ہماری طرح ہی بہت زیادہ محبت کرتے ہیں''۔

یہ اسرائیلی عورت عراق کے بعد شام کے شمالی شہر کوبانی (عین العرب )میں جاری لڑائی میں حصہ لینے کی تیاریوں میں تھی۔اس کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی فوج میں اپنے عسکری تربیت کے تجربے سے کرد جنگجوؤں کی امداد کے لیے کردار ادا کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1960ء کی دہائی سے کردوں کے ساتھ عسکری ،سراغرسانی اور کاروباری شعبوں میں خفیہ روابط استوار کررکھے ہیں اور وہ اس نسلی اقلیت کو اپنے عرب مخالفین کے درمیان ایک بفرگروپ قرار دیتا ہے۔کرد عراق ،شام ،ترکی اور ایران میں آباد ہیں۔

اسرائیل نے اپنے شہریوں پر دشمن ممالک عراق اور شام میں جانے پر پابندی عاید کررکھی ہے اور اس کی عدالتوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران ان دونوں ممالک میں برسرپیکار داعش میں شامل ہوکر لڑنے والے اپنے عرب شہریوں کو ملک واپسی پر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکام نے مذکورہ عورت کے حوالے سے فوری طور پر کچھ نہیں کہا کہ آیا اس کی وطن واپسی کی صورت میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا یا نہیں۔