ماہی گیروں نے ننھے #شامی_مہاجر کو ڈوبنے سے بچا لیا
محمد حسن ترکی کی سمندری حدود ہی میں پانی میں ڈوب گیا تھا
شام میں صدر بشارالاسد کی ہٹ دھرمی کے نیتجے میں خانہ جنگی کے عذاب میں مبتلا قوم کی اندرون اور بیرون ملک ہجرت کے سفر کے دل دھلا دینے والے واقعات ہمیشہ انسانی المیے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
ملک سے نقل مکانی کا مرحلہ زندگی اور موت کا سفر بن چکا ہے، جہاں چند ماہ قبل ایک تین سالہ شامی بچہ ایلان کردی سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوا تو سمندر نے اسے اٹھا کر ساحل پر پھینک دیا۔ ایک اور شامی شیر خوار سمندری لہروں کی نذر تو ہوا مگر ابھی اسے اور کئی آزمائشوں سے گذرنا ہے۔ اس لیے ڈیڑھ سالہ محمد حسن کو بچا لیا لیا گیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس کم سن شامی پناہ گزین کے ساتھ پیش آئے المناک واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ محمد حسن کے کشتی کے حادثے کے نتیجے میں سمندرمیں ڈوبنے کا واقعہ ایلان کردی کی عبرت انگیز موت سے چند ماہ بعد پیش آیا ہے۔ ایلان کردی کو سمندر میں ڈوب جانے کے بعد لہروں نے اٹھا کر کنارے پر اوندھے منہ پھینک دیا تھا، جو اپنے ملک میں بیرل بموں اور کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کاریوں کے بعد جان لیوا سفر کا ایک استعارہ بن کر پوری دنیا کے سامنے آیا تھا۔
شام سے تعلق رکھنے والا 18 ماہ کا محمد حسن ترکی ہی کے سمندر میں اس وقت پانی میں ڈوب گیا جب اس کی کشتی کو حادثہ پیش آیا۔ جائے حادثہ کے قریب ہی چند ماہی گیر موجود تھے، جنہوں نے سمندر کی بے رحم موجوں کے جبڑوں سے حسن کی زندگی بچا لی۔
محمد حسن کی ماں 'لوران خلف' بھی اسی کشتی میں سوار تھیں۔ اپنے لخت جگر کے معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے پر جہاں وہ خوش دکھائی دیں وہیں سفر کی دشواریوں اور پیش آئند مسائل کا سوچ کر ان کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ خلف نے بتایا کہ ہم ترکی کے ساحل سے یونان کی جانب ایک چھوٹی کشتی میں عازم سفر ہوئے۔
کشتی میں سوار ہمارے ساتھ شام کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین تھے۔ ہمارا تعلق کوبانی سے ہے۔ ہم نے کوبانی اس وقت چھوڑنے کا فیصلہ کیا جب دولت اسلامی "داعش" کےدہشت گردوں نے میرے شوہر کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں پکڑنے کی کوششیں شروع کیں۔ وہ ہم سے پہلے ہی یونان سے ہوتے ہوئے سوئٹرز لینڈ پہنچ چکے ہیں۔
ہمارے خاندان کی جانب سے کشتی بان کے ساتھ ہمیں یونان پہنچانے کی ڈیلنگ کی۔ کشتی کے مالک کو فی کس 2000 یورو ادا کیے گئے۔ جس کے بعد ایک چھوٹی کشتی میں 29 افراد کو ٹھونس دیا گیا۔
شامی خاتون نے بتایا کہ آغاز سفر ہی سے کشتی کا انجن بار بار بند ہو جاتا، جس کے باعث کشتی کے مسافروں کو اپنی جانیں خطرے میں پڑی دکھائی دے رہی تھیں اور ہرشخص اپنے بارے میں فکرمند تھا۔
مجھے خود سے زیادہ اپنے شیر خوار حسن کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ طوفانی لہروں کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک جگہ کشتی الٹ گئی اور ہم سب پانی میں تھے۔ پانی کی لہروں نے مجھ سے بچہ چھین لیا۔ میں خود کو بھی سنبھال نہیں پا رہی تھی۔ اس لیے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ بچہ موت سے ہمکنار ہو چکا ہے۔ کچھ دیر بعد ماہی گیروں نے مجھے سمندر سے نکالنے میں مدد کی تو میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے میرا بچہ دیکھا ہے۔ ایک ماہی گیر نے سمندر کی لہروں کی طرف اشارہ کیا جہاں بچہ دکھائی دے رہا تھا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میرا بیٹا زندہ ہے۔
ایک دوسرا ماہی گیر لپک کر بچے کی جانب گیا اور اسے پانی سے بھگوئے ہوئے کپڑے کی طرح کھینچ کر نکالا۔ ہم سب ورطہ حیرت میں مبتلا تھے کیونکہ بچہ ناقابل یقین حد تک محفوظ تھا۔ بچے کو جب پانی سے نکالا گیا تو اس وقت اس کے ننھے ننھے ہاتھ حرکت نہیں کر رہے تھے، مگر ہمیں اس کی زندگی کا اس وقت یقین ہوا جب اس نے ہلکی ہلکی آواز میں رونا شروع کیا۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ کل کائنات سمٹ کر میری بانہوں میں آ گئی ہے۔
سمندری لہروں میں زندگی کی بازی ہار جانے والا ایلان کردی اور موت کے منہ سے معجزانہ طور پر بچ رہنے والا حسن پوری انسانیت کے سامنے اہل شام کے انسانی المیےکی زندہ مثالیں ہیں۔ ورنہ اب تک کتنے ہی ایلان کردی اور حسن اس بشارالاسد کے خونی دیو استبداد کی مسلط کردہ جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔
-
ایلان کردی، اس کے بھائی اور والدہ کی کوبانی میں تدفین
ترکی کے پانیوں میں کشتی کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے شامی بچے ایلان کردی ،اس کے ...
مشرق وسطی -
ایلان کردی کا والد خود بھی انسانی اسمگلر؟
چند ہفتے قبل #ترکی کے ایک ساحل سمندر پر پڑی تین سالہ بچے #ایلان_کردی کی لاش نے جب ...
بين الاقوامى -
'داعش' نے یورپ کی طرف نقل مکانی کو "گناہ کبیرہ" قرار دیا
مہاجرین کو ایلان الکردی کے انجام سے دوچار کرنے کی دھمکی
مشرق وسطی