صحت : صبح کے وقت 8 سادہ مشقیں جو یاد داشت اور مرکزیت بہتر بناتی ہیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ دماغ کو تیز اور ذہن کو چاق و چوبند کرنے کے لیے صبح کے وقت چند ورزشوں اور مشقوں کا معمول بنا لینا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ متعدد سائنسی مطالعے اس بات کی پہلے ہی تصدیق کر چکے ہیں۔
یہ بات ایک نئی تحقیق میں بھی دہرائی گئی ہے، جس میں مجموعی طور پر ادراکی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے چند مفید مشورے دیے گئے ہیں۔ انگریزی ویب سائٹ Economic Times کے مطابق ان میں سے چند درج ذیل ہیں :
1 - جان کاری اور جسمانی ورزش کا امتزاج
اس میں ہلکی ورزشیں جیسے یوگا یا کھنچاؤ اور ذہنی سرگرمیوں کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص کیوں کہ یہ جسمانی حرکت اور دوران خون کو بہتر بناتی ہیں جب کہ جان کاری کے چیلنج ذہن کی تیزی اور ہم آہنگی کو بڑھاتے ہیں۔
2 - بلند آواز سے پڑھنا
اسی طرح بلند آواز میں پڑھنا بصری اور سمعی راستوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، یہ سمجھ، ذخیرہ الفاظ اور حافظے کو بہتر بناتا ہے۔ خاص طور پر یہ ارتکاز، تعلیم اور دماغی سرگرمی کے ذریعے دن کے آغاز کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔
3 - ذہنی حساب
اسی طرح سادہ ذہنی حساب کے ذریعے عقل کو چیلنج کیا جا سکتا ہے، جس سے سوچنے کی عددی صلاحیت کو متحرک کر سکتے ہیں اور قلیل مدتی حافظے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ روزمرہ کی زندگی میں توجہ مرکوز کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
4 - روزانہ ڈائری لکھنا
اسی طرح، روزنامہ لکھنا خیالات کو منظم کرتا ہے، ذاتی غور و فکر کو فروغ دیتا ہے اور حافظے کو بہتر بناتا ہے۔ ہر صبح منصوبوں، کاموں اور شکرگزاری کی فہرست لکھنا توجہ مرکوز کرتا ہے اور پورے دن کے لیے ایک فائدہ مند ذہنیت تیار کرتا ہے۔
5 - تصور کی تربیت
آنکھیں بند کر کے ذہنی طور پر مخصوص کاموں پر مشق کرنا یا تفصیلات یاد کرنا تصوّر اور حافظے کو مضبوط بناتا ہے، توجہ کو بڑھاتا ہے اور ان اہداف کو واضح طور پر حاصل کرنے کے لیے اعتماد پیدا کرتا ہے۔
6 - نئی مہارتیں سیکھنا
ایک اور اچھی عادت یہ ہے کہ روزانہ چند منٹ نئی مہارت، لفظ یا نئی معلومات سیکھنے کے لیے مختص کیے جائیں۔ اس لیے کہ یہ اعصابی روابط کو مضبوط کرتا ہے، مثبت تجسس کو بڑھاتا ہے اور وقت کے ساتھ معلومات یاد رکھنے کی دماغی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔
7 - پہیلیاں اور معمّے حل کرنا
اسی طرح، سودوکو، کراس ورڈ یا پزل حل کرنا دماغ کو متحرک کرتا ہے اور منطقی سوچ، حافظہ اور توجہ کو بہتر بناتا ہے۔ باقاعدگی سے پہیلیاں حل کرنا مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کو فروغ دیتا ہے اور ذہنی چستی کو بہتر بناتا ہے۔
8 - مراقبہ (غور و فکر)
اسی طرح، 5 سے 10 منٹ کے لیے گہری اور سست سانسوں کی مشق پر توجہ مرکوز کرنا ایک سادہ طریقہ ہے جو تناؤ کم کرنے، وضاحت بڑھانے اور توجہ تیز کرنے میں مدد دیتا ہے، کیوں کہ یہ دماغ کو سکون دے کر مجموعی ادراکی کارکردگی بہتر بناتا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ متعدد تحقیقی مطالعوں نے افراد کی زندگی میں ورزش کی اہمیت اور اس کے دماغ، ذہن اور حافظے پر اثرات پر بات کی ہے۔
-
صحت : معدے کے جرثومے کے علاج میں مدد گار آٹھ غذائیں ... لہسن سر فہرست
معدے کا جرثومہ ایک عام بیماری ہے جو بہت سے لوگوں کو متاثر کرتی ہے جب کہ ان کا اس ...
ایڈیٹر کی پسند -
نصف صدی سے جاری مصر کے تاریخی رمضان ٹورنامنٹس عوام کی توجہ کا آج تک مرکز کیوں ہیں؟
سب سے زیادہ ہنر مند کھلاڑی اس میں حصہ لیتے ہیں اور لاکھوں دیہاتی اسے دیکھتے ہیں ...
بين الاقوامى -
رمضان المبارک کے دوران ’حرمین ایکسپریس‘ سے روزانہ 48,000 مسافروں کی مکہ مکرمہ آمد
سعودی عرب کی ریلوے کمپنی (ایس اے آر) کے ترجمان خالد الفرحان نے انکشاف کیا کہ مکہ ...
مشرق وسطی