مشرق وسطیٰ

نیتن یاہو کے بیٹے کی مشہور پوڈکاسٹ میزبان روگن پر تنقید ، والد کو مدعو نہ کرنے پر برہم!

یائر نے ہنٹر بائیڈن کی تعریف والی گفتگو کے بعد جو روگن پر یہود دشمنی کو فروغ دینے کا الزام لگایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بڑے بیٹے یائر نیتن یاہو نے مشہور پوڈکاسٹ میزبان "جو روگن" پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کے والد کو اپنے پروگرام میں مدعو کرنے سے انکاری ہے، اور دعویٰ کیا کہ روگن برسوں سے "یہود دشمن پروپیگنڈا" کو فروغ دیتا رہا ہے۔

یائر نیتن یاہو (33 سالہ) کی یہ تنقید اُس وقت سامنے آئی جب روگن نے اپنے خصوصی پوڈکاسٹ کی ایک حالیہ قسط میں امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ "اپنے والد سے زیادہ ذہین" ہے، اور عندیہ دیا کہ وہ صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے بتائی۔

یائر نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ "یہ قدامت پسندوں کے لیے ایک بڑی تنبیہ ہے کہ جو روگن دراصل قدامت پسند ہے ہی نہیں"۔ یائر نے مزید لکھا "روگن نے نئے نازیوں سمیت ہر یہود دشمن شخص کو اپنا پلیٹ فارم دیا ... لیکن وہ میرے والد کو بلانے سے انکار کرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کے پاس ان کے خلاف کوئی موقع نہیں، اور برسوں کی یہود دشمن مہم ضائع ہو جائے گی۔"

جو روگن پر اس سے قبل بھی متعدد بار یہود دشمنی کے الزامات لگ چکے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں اس نے مؤرخ ڈیرل کوپر کو اپنے پروگرام میں مدعو کیا، جس پر تنقید ہوئی کہ وہ ہولوکاسٹ کو مسخ کرتا اور نازی جرائم کو معمولی ظاہر کرتا ہے۔ ان الزامات کے جواب میں روگن نے اپنے ناقدین کو "جنون کا شکار یہودی" قرار دیا تھا۔

سال2023 میں بھی روگن نے اپنی پوڈکاسٹ میں یہودیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا "یہ کہنا کہ یہودیوں کو پیسا پسند نہیں، ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ اطالویوں کو پیزا پسند نہیں۔"

یائر نیتن یاہو اپنے والد کے شدید اور متنازع دفاع کے حوالے سے مشہور ہے، اور وہ خود بھی متعدد مواقع پر تنازعات کا سبب بن چکا ہے۔

سال2018 میں اس کا فیس بک اکاؤنٹ 24 گھنٹوں کے لیے معطل کر دیا گیا تھا جب اس نے مسلمانوں اور فلسطینیوں کے خلاف کئی متنازع پوسٹیں کی تھیں۔ ایک پوسٹ میں اس نے لکھا تھا "کیا آپ جانتے ہیں کہ کہاں حملے نہیں ہوتے؟ آئس لینڈ اور جاپان میں، کیونکہ وہاں مسلمان نہیں ہیں۔"

ایک اور پیغام میں اس نے لکھا تھا "درندوں کے ساتھ کبھی امن نہیں ہو سکتا، وہ درندے جو انسانی شکل میں ہیں اور جنھیں 1964 سے 'فلسطینی' کہا جاتا ہے۔"

اسی سال کے آغاز میں، جب وہ 26 برس کا تھا، تل ابیب کے ایک نائٹ کلب کے باہر اس کی ایک وڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ نشے کی حالت میں تھا۔ اس دوران وہ اپنے والد پر فخر کر رہا تھا اور خواتین سے متعلق بے باک تبصرے کر رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں