انسانی آنکھ سے اوجھل روشنی، جانداروں میں خفیہ تابکاری کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تازہ سائنسی تحقیق ایک حیران کن جسمانی شواہد سامنے لائی ہیں، جو ایک پراسرار مظہر ''بایوفوٹونز'' (Biophotons) سے متعلق ہیں۔ یہ انتہائی کمزور روشنی کے اخراجات ہیں، جو جانداروں سے خارج ہوتے ہیں اور موت کے فوراً بعد بند ہو جاتے ہیں۔ یہ دریافت زندگی اور روشنی کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے نئے امکانات کھولتی ہے۔

اس تحقیق میں جاندار چوہوں اور دو مختلف پودوں کی پتّیوں پر تجربات کیے گئے، جن سے یہ پتہ چلا کہ تمام جانداراور شاید انسان بھی حقیقتاً زندہ رہنے کے دوران ''چمکتے '' ہیں، لیکن موت کے بعد یہ چمک ماند پڑ کر ختم ہو جاتی ہے۔

حقیقی فزکس کے مطابق پیمائشیں

فزکس کے شعبے میں کی گئی انتہائی درست پیمائشوں نے اس پراسرار مظہر کی تصدیق کی ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ خیال ''ہالوں ''یا دیگر ماورائی مظاہر سے مشابہ لگتا ہے، لیکن محققین واضح کرتے ہیں کہ یہ مشاہدات سائنسی پیمائشوں پر مبنی ہیں نہ کہ کسی روحانی یا مابعدالطبیعی وضاحت پر۔

نظریاتی طور پر حیاتیاتی عمل سے خارج ہونے والی روشنی بہت کمزور ہوتی ہے، اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ جسمانی حرارت اور اردگرد کے الیکٹرو میگنیٹک ویوز اس پر غالب آ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کا ریکارڈ کرنا ایک بڑا سائنسی چیلنج ہوتا ہے۔اس چیلنج پر قابو پاتے ہوئے کیلگری یونیورسٹی کے فزکس کے محقق کی قیادت میں ٹیم نے ہائی سینسٹیو کیمرے (CCD اور EMCCD) استعمال کیے تاکہ انتہائی کمزور فوٹونز (UPE) کے اخراج کو ریکارڈ کیا جا سکے۔

ماپنے کے نتائج نے زندہ جانداروں اور ان کے مرنے کے بعد جسمانی حالات میں واضح فرق دکھایا، چاہے وہ چوہے ہوں یا پودوں کی پتیاں جیسا کہ سائنس الرٹ میں رپورٹ کیا گیا ہے۔

جانوروں اور پودوں پر تجربات

جانوروں کے تجربے میں چار چوہوں کو ایک تاریک صندوق میں ایک گھنٹے کے لیے زندہ رکھا گیا اور ان کی تصویریں بنائی گئیں، پھر انہیں ہمدردانہ طور پر مارنے کے بعد دوبارہ اسی مدت کے لیے ان کی تصاویر لی گئیں، اس دوران ان کے جسم کی حرارت کو برقرار رکھا گیا تاکہ حرارت کے اثرات نتائج پر نہ پڑیں۔ ڈیٹا سے واضح ہوا کہ موت کے بعد فوتونز (Electromagnetic Radiation)کی تعداد میں نمایاں کمی آئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مدھم روشنی براہِ راست حیاتیاتی عمل سے متعلق ہے۔

پودوں کے تجربات میں، چوہے کے کان والے رشاد اور بونے چھتری نما پودے کی پتیاں بھی مشابہت دکھاتی ہیں، کیونکہ متاثرہ یا کیمیائی دباؤ کے تحت آنے والے حصے صحت مند حصوں کے مقابلے میں طویل عرصے تک زیادہ روشن دکھائی دیتے ہیں۔جن میں دیکھا گیا کہ زخمی یا کیمیائی دباؤ میں آنے والے حصے زیادہ روشن تھے اور یہ روشنی طویل عرصے تک برقرار رہی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آزاد آکسیجن کے جڑواں مالیکیولز (Reactive Oxygen Species) جو خلیات دباؤ یا نقصان کے وقت پیدا کرتے ہیں، اس ظریف روشنی کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مظہر مستقبل میں سائنسی اور طبی استعمالات کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ بایوفوٹونز (Bio-photons)کی نگرانی غیر جارحانہ طریقے سے زندہ ٹشوز میں دباؤ یا صحت کے حالات کو جانچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، چاہے وہ انسان ہوں، جانور یا پودے اور فصلیں۔

یہ تحقیق The Journal of Physical Chemistry Letters میں شائع ہوئی، جبکہ اس کے ابتدائی نتائج مئی 2025 میں منظر عام پر آئے تھے، اس نے ایک پرانے سوال کو نئے سائنسی انداز میں دوبارہ اٹھایا: کیا زندگی بذاتِ خود روشنی کی ایک شکل ہے؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں