مونگ پھلی کے چھلکوں سے گرافین جیسا کاربن تیار کرنے میں بڑی پیش رفت

مونگ پھلی سے دنیا بھر میں سالانہ ایک کروڑ ٹن سے زائد فضلہ پیدا ہوتا ہے، جو عموماً بے کار سمجھے جانے والے چھلکوں کی صورت میں ہوتا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ماہرین نے مونگ پھلی کے چھلکوں اور دیگر زرعی فضلے کے مؤثر استعمال کا ایک حیرت انگیز طریقہ دریافت کیا ہے، جس کے ذریعے دنیا بھر میں سالانہ ضائع ہونے والے لاکھوں ٹن مواد کو کارآمد بنایا جا سکے گا۔

''سا ئنس الرٹ'' کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ایک نئی تکنیک تیار کی ہے، جس کے ذریعے مونگ پھلی کے چھلکوں کو گرافین جیسے کاربن مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یہ وہی فضلہ ہے ،جو عام طور پر کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے، حالانکہ اب اسے قیمتی سائنسی مواد میں بدلا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مونگ پھلی کی پیداوار سے ہر سال 10 ملین ٹن سے زائد چھلکوں کی صورت میں فضلہ پیدا ہوتا ہے، جسے عموماً تلف کر دیا جاتا ہے۔

گرافین کو ایک ''معجزاتی مادہ'' قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ انتہائی مضبوط، ہلکا اور حرارت و بجلی کا بہترین موصل ہے۔ اسے پہلے ہی مختلف جدید ٹیکنالوجیز میں استعمال کیا جا رہا ہے اور مستقبل میں الیکٹرانکس اور توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کی توقع ہے۔

تاہم گرافین کی بڑے پیمانے پر تیاری مہنگی اور پیچیدہ عمل ہے، اسی لیے متبادل طریقوں کی تلاش جاری ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (UNSW) کے سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ مونگ پھلی کے چھلکوں جیسے زرعی فضلے کو کم خرچ اور ماحول دوست طریقے سے گرافین نما کاربن مواد میں بدلا جا سکتا ہے، جو مستقبل کی ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے مکینیکل انجینئر گوان یوہ کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کے چھلکوں کا زیادہ تر حصہ یا تو ضائع کر دیا جاتا ہے یا پھر کم قیمت استعمالات میں چلا جاتا ہے، جس سے اس کی اصل صلاحیت بروئے کار نہیں آتی۔

انہوں نے بتایا کہ اس تحقیق میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ عام مونگ پھلی کے چھلکوں کو کم توانائی اور کم لاگت کے ساتھ اعلیٰ معیار کے گرافین میں بدلا جا سکتا ہے اور اس عمل میں کسی بھی کیمیکل کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، جو اسے ماحول دوست بناتا ہے۔

اس طریقہ کار کی بنیاد قدرتی پولیمر ''لگنین'' پر ہے، جو زیادہ تر پودوں میں پایا جاتا ہے اور کاربن سے بھرپور ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ پہلے سے معلوم تھا کہ مونگ پھلی کے چھلکوں میں یہ موجود ہوتا ہے، لیکن اصل چیلنج اسے مؤثر طریقے سے استعمال کرنا تھا۔

تحقیقاتی ٹیم نے چھلکوں سے لگنین حاصل کرنے کے مختلف طریقے آزمائے، جس کے بعد '' فلیش ہیٹنگ '' نامی تکنیک استعمال کی گئی۔

اس میں برقی جھٹکے کے ذریعے مواد کو چند لمحوں کے لیے 3000 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت تک گرم کیا جاتا ہے، جس سے کاربن کے ایٹم دوبارہ منظم ہو کر گرافیٹک ساخت بنا لیتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں چھلکوں کو تقریباً 500 ڈگری پر کچھ منٹ گرم کیا جاتا ہے تاکہ نجاستیں ختم ہو جائیں اور وہ چارکول میں تبدیل ہو جائیں، جو زیادہ خالص کاربن مواد فراہم کرتا ہے۔

گوان یوہ کے مطابق یہ مرحلہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اسی سے اعلیٰ معیار کا گرافین حاصل ہوتا ہے، جس میں نقائص کم سے کم ہوتے ہیں اور یہ ایک ایٹمی تہہ کی صورت میں بنتا ہے، جو بہترین برقی اور حرارتی ترسیل فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ اس سے پہلے بھی مونگ پھلی کے چھلکوں سے گرافین بنانے کی کوششیں ہو چکی ہیں، لیکن نئی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ابتدائی مواد پر بہتر کنٹرول سے گرافین کی کوالٹی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

تاہم یہ عمل ابھی مکمل طور پر تجارتی سطح پر نہیں پہنچا۔ اگرچہ حاصل ہونے والا گرافین اعلیٰ معیار کا ہے، لیکن یہ عام طور پر چند تہوں پر مشتمل اور غیر منظم ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق اسے تجارتی استعمال تک پہنچنے میں 3 سے 4 سال لگ سکتے ہیں۔سائنسدان اب اس طریقے کو دیگر حیاتیاتی فضلے جیسے کافی کی باقیات، کیلے کے چھلکے اور دیگر نامیاتی مواد پر بھی آزمانا چاہتے ہیں، تاکہ کم لاگت اور ماحول دوست طریقوں سے جدید کاربن مواد تیار کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size