امریکا کی شامی باغیوں کے لیے''مہلک'' امداد کا اشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر براک اوباما کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے کہا ہے کہ امریکا شامی حزب اختلاف کے منتخب ارکان کو ''مہلک اور غیرمہلک'' امداد مہیا کررہا ہے۔

سوزن رائس نے جمعہ کو سی این این کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ انھیں شام میں جاری خانہ جنگی میں خونریزی سے صدمہ پہنچا تھا اور اسی لیے اوباما انتظامیہ نے اعتدال پسند حزب اختلاف کے لیے مہلک اور غیر مہلک امداد میں اضافہ کردیا ہے۔وہ براک اوباما کے ساتھ ڈی ڈے کی سترویں سالانہ تقریب میں شرکت کے لیے فرانس کے شہر نومنڈی پہنچی ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اعلیٰ امریکی عہدے دار نے شامی حزب اختلاف کو غیرمہلک کے علاوہ مہلک امداد مہیا کرنے سے متعلق واضح بیان جاری کیا ہے۔قبل ازیں امریکی عہدے دار شامی حزب اختلاف کی فورسز کو مہیا کیے جانے والے اسلحے ،ہتھیاروں اور آلات کی نوعیت کے بارے میں واضح لفظوں میں کچھ کہنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔البتہ سوزن رائس اور ان کی ترجمان نے بھی اس امر کی وضاحت نہیں کی ہے کہ امریکا کی جانب سے شامی باغیوں کو غیر مہلک امداد کی مد میں کیا کیا ہتھیار مہیا کیے جارہے ہیں۔

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کی خاتون ترجمان کیٹلین ہیڈن سے جب اس حوالے سے سوال کیا گیا کہ آیا سوزن رائس شام میں جاری خانہ جنگی سے متعلق امریکا کی نئی پالیسی کا اعلان کررہی تھیں تو انھوں نے اس حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم شامی حزب اختلاف کے لیے اپنی تمام امداد کی تفصیل بیان کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن ہم نے واضح کردیا ہے کہ ہم اپوزیشن کو فوجی اور غیر فوجی امداد مہیا کررہے ہیں''۔

امریکا نے اب تک شامی حزب اختلاف کو سرکاری طور پر مہیا کی جانے والی غیر مہلک یعنی نقدی امداد ہی کا اعتراف کیا ہے اور اس کی مالیت اٹھائیس کروڑ ستر لاکھ ڈالرز ہے۔تاہم امریکا کا مرکزی خفیہ ادارہ سی آئی اے مبینہ طور پر اردن میں اعتدال پسند شامی باغیوں کو ایک خفیہ پروگرام کے تحت جنگی تربیت دے رہا ہے۔

قبل ازیں شامی حزب اختلاف کے لیڈر امریکا پر باغی جنگجوؤں کو طیارہ شکن میزائل مہیا نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کرچکے ہیں۔امریکا یہ خطرناک میزائل شامی باغیوں کو دینے سے یہ کہہ کر انکار کرچکا ہے کہ یہ غلط ہاتھوں میں پہنچ سکتے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر اوباما شام میں القاعدہ سے وابستہ جہادیوں کا توڑ کرنے اور ان کا راستہ روکنے کے لیے منتخب باغی گروپوں کی تربیت کے مشن پر دستخط کرنے کو تیار ہیں۔

صدر براک اوباما نے گذشتہ ہفتے اپنی خارجہ پالیسی سے متعلق تقریر میں کہا تھا کہ امریکا شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی امداد میں اضافہ کرے گا۔انھوں نے یہ اعلان شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ احمد الجربا سے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں