ایرانی عہدیدار کو بغداد بارے متنازعہ بیان پر عدالت کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے صدر حسن روحانی کے مشیر علی یونسی کو ایران کو عظیم الشان سلطنت اور بغداد کو اس کا دارالحکومت قرار دینے جیسے متنازعہ بیان پر عدالت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مسٹر یونسی کو عدالت نے طلب کر کے ان سے متنازعہ بیان پر باز پرس کی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں صدر روحانی کے مشیر اور سابق وزیرعلی یونسی کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران ایک عظیم الشان اور وسیع سلطنت ہے جس کا دارالحکومت تہران نہیں بلکہ بغداد ہے۔ ان کے اس بیان پر ایران میں اعتدال پسند حلقوں اور عراق میں بھی سخت برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔ عراقی وزیرخارجہ ابراہیم جعفری نے علی یونسی کے بیان کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایران کی فارسی خبر رساں ایجنسی’’تسنیم‘‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر کے مشیر علی یونسی کو تہران کی ایک عدالت نے طلب کر کے ان کے متنازعہ بیان پر سوال و جواب کیے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی عدالت کی جانب سے علی یونسی کی طلبی ملک کے مذہبی حلقوں کو سخت ناگوار گذری ہے۔

علی یونسی کے بیان پر عرب ممالک کے میڈٰیا میں آنے والے رد عمل پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق علی یونسی کا بیان اتنا متنازعہ نہیں جتنا کہ اسےعرب اور عالمی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ بغداد کو ایران کا دارالحکومت قرار دینا کوئی بڑی بات نہیں۔ ماضی میں بغداد ایران کا حصہ رہ چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں