مصر نے عدن میں سفارت خانہ خالی کردیا
مصر نے یمن کے جنوبی شہر عدن میں اپنے سفارتی مشن کو خالی کردیا ہے اور وہاں سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔اس نے یہ فیصلہ حوثی شیعہ باغیوں کی اس شہر پر چڑھائی کے بعد کیا ہے۔
حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا سے مسلسل پیش قدمی کے بعد عدن کا محاصرہ کرلیا ہے۔یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی صنعا سے بھاگ آنے کے بعد یہیں مقیم ہیں اور اپنی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو چلا رہے ہیں۔یمنی صدر نے حوثیوں کی عدن کی جانب چڑھائی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا ہے جس میں اس سے بحران کے حل کے لیے فوجی مداخلت کی اپیل کی ہے۔
حوثی باغیوں نے بدھ کو اس شہر کے نواح میں واقع ایک ائیربیس پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ صدر عبد ربہ منصور ہادی عدن سے کہیں اور چلے گئے ہیں لیکن ان کے وزیر خارجہ ریاض یاسین نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔
عدن کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بند کردیا گیا ہے اور سکیورٹی وجوہ کی بنا پر تمام پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔واضح رہے کہ صنعا پر حوثیوں کے قبضے اور صدر منصور ہادی کے وہاں سے اٹھ آنے کے بعد سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک نے اپنے سفارت خانے اور سفارتی عملہ کو عدن میں منتقل کردیا تھا۔
-
یمن: دہشت گردی میں زخمیوں کا سعودی عرب میں علاج کرانے کی ہدایت
سعودی عرب کی حکومت نے یمن کے شہروں عدن اور صنعاء میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے ...
بين الاقوامى -
یمن: مساجد پر خودکش بم حملے، 141 افراد ہلاک
داعش نے حوثیوں کی مساجد کو خون میں نہلانے کی ذمہ داری قبول کر لی
بين الاقوامى -
یمن کو دہشت گردی کا گڑھ نہیں بننے دیں گے:جی سی سی
خلیج تعاون کونسل "جی سی سی" نے یمن میں جاری سیاسی شورش کے خاتمے کے لیے ...
بين الاقوامى -
صدرھادی نے عدن کو یمن کا عبوری دارالحکومت قرار دیا
یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے جنوبی شہر عدن کو ملک کا عبوری دارالحکومت قرار ...
بين الاقوامى -
یمن: سعودی سفارت کار القاعدہ کے چنگل سے بازیاب
عبداللہ الخالدی تین سال تک یرغمال رہنے کے بعد الریاض واپس پہنچ گئے
بين الاقوامى -
یمن: حوثی باغیوں کا اقتدار چھوڑنے سے انکار
حوثی ترجمان نے اقوام متحدہ اور خلیجی ممالک کا مطالبہ مسترد کردیا
بين الاقوامى