یمن میں شہری خدمات تباہی کے دہانے پر:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ یمن میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران بارہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔انھوں نے خبردار کیا ہے یمن میں خانہ جنگی کے نتیجے میں صحت ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور ٹیلی مواصلات کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

بین کی مون کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں یمن میں ایک مرتبہ پھر تمام فریقوں سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ اگر ایسا ممکن نہیں تو کم سے کم انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے ہی جنگ میں وقفہ کردیا جائے۔

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے 26 مارچ سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ برسرزمین ملک کے مختلف علاقوں میں حوثی جنگجوؤں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لڑائی کے نتیجے میں خوراک ،ایندھن اور ادویہ و طبی سامان کی ترسیل رُک چکی ہے اور تمام ہوائی اڈے شہری پروازوں کے لیے بند ہیں۔

بین کی مون نے خبردار کیا ہے کہ عرب دنیا کے اس غریب ملک میں امدادی سرگرمیاں آیندہ چند روز تک ہی جاری رہ سکیں گی۔انھوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کا تحفظ کریں اور اسپتالوں اور مراکزِ صحت پر حملے فوری طور بند کردیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں