کویت میں داعش کے سہولت کار کو 20 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کویت کی ایک فوج داری عدالت نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام داعش کے ایک مبینہ سہولت کار کو 20 سال قید با مشقت کی سزا کا حکم دیا ہے۔ ملزم ایک ماہ قبل کویت سٹی میں الصوابر مسجد میں ہونے والے خود کش بم حملے میں بھی ملوث بتایا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قبل ازیں کویتی پولیس نے مسجد الصوابر میں خود کش بمبار کو پہنچانے کے لیے کار فراہم کرنے والے شخص کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

کویتی ذرائع نے "العربیہ" کوبتایا کہ ایک مقامی شہری نے جس کی عمر30 سال کےدرمیان ہے نے اپنی کار اس دہشت گرد کو فراہم کی تھی جس نے مسجد میں دھماکہ کرنے والے شدت پسند کو اپنی کار کے ذریعے وہاں پہنچایا تھا۔ پولیس نے کار کے ڈرائیور کو بھی گرفتار کیاہے تاہم اس کی شہریت نہیں بتائی گئی۔

اس کے علاوہ پولیس نے ملک میں مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران 18 مشتبہ عسکریت پسندون کو حراست میں لیا ہے۔ تفتیش کے دوران ان شدت پسندوں کے بھی 65 فی صد شدت پسندوں کے ساتھ روابط کا انکشاف کیا گیا۔ نیز یہ لوگ کویت میں اہل تشیع مسلک کے مسلمانوں کی مساجد میں ہونے والے بم دھماکوں میں بھی کسی نہ کسی شکل میں ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ کویت کے مرکزی علاقے میں پچھلے ماہ جامع مسجد امام الصادق میں ہونے والے خود کش حملے میں 27 نمازی جاں بحق اور 222 زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری "داعش" نےقبول کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں