مراکش اور سپین میں داعش کے 14 بھرتی کنندگان گرفتار
مراکش اور سپین میں مشترکہ اور مربوط کارروائیوں کے دوران سخت گیر گروپ داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے الزام میں ایک سیل کے چودہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مراکش کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مختلف شہروں میں منگل کے روز چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران تیرہ افراد کو پکڑا گیا ہے۔ان میں سے ایک شخص کو پہلے بھی انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
ادھر سپین کی وزارت داخلہ نے اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت میڈرڈ سے جنوب مشرق میں واقع قصبے سان مارٹن ڈی لا ویگا سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس شخص کا بھی اسی گروپ سے تعلق ہے جس سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد کو مراکش سے گرفتار کیا گیا ہے۔یہ افراد سپین کے زیر انتظام جزیرہ نما میلیلا میں ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں رہتے تھے۔
دونوں وزارتوں کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک شام اور عراق میں لڑائی کے لیے جنگجو بھرتی کیا کرتا تھا اور وہ مراکش اور سپین میں داعش کی طرز کی کارروائیاں بھی کرنا چاہتا تھا۔
مراکشی اور ہسپانوی حکام نے قبل ازیں شمالی افریقہ میں سپین کے علاقوں میلیلا اور سیوٹا اور ان کے نواح میں واقع مراکشی شہروں نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مشترکہ کارروائیاں کی تھیں۔
واضح رہے کہ مراکش سے بڑی تعداد میں نوجوان جنگ میں حصہ لینے کے لیے شام اور عراق میں گئے ہیں اور اس وقت وہ داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔ مراکشی وزیرداخلہ محمد حسد نے جولائی میں بتایا تھا کہ ایک ہزار تین سو پچاس مراکشی داعش میں شامل ہوچکے ہیں اور ان میں دو سو چھیالیس لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا تھا کہ گذشتہ دو سال کے دوران مشتبہ دہشت گردوں کے تیس ںیٹ ورکس توڑے گئے ہیں اور ان میں بارہ کو گذشتہ چھے ماہ کے دوران ختم کیا گیا ہے۔ہسپانوی پولیس نے اس سال اب تک قریباً پچاس مشتبہ جنگجوؤں اور ان کے بھرتی کنندگان کو گرفتار کیا ہے۔
ہسپانوی وزیرداخلہ جارج فرنانینڈیز دیاز نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ گذشتہ سال سپین سے ایک سو چھبیس افراد داعش میں شمولیت کے لیے گئے تھے۔ان میں سے پچیس لڑائی میں ہلاک ہوگئے تھے اور اکسٹھ ابھی تک بیرون ملک ہیں۔سپین لوٹنے والے پچیس افراد میں سے پندرہ کو جیل بھیج دیا گیا تھا اور دس کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ان کے علاوہ پندرہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔ان کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔