مخلوط عبادت گاہ کے منصوبے پر قائم ہیں: نتین یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن #نیتن_یاہو نے یہودی ربیوں اور سیاسی اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود کہا ہے کہ ان کی حکومت یہودی مرد وعورتوں کے ایک ساتھ عبادت کے لئے #دیوار_مغرب کے قریب ایک علاقہ مختص کرنے کے فیصلے پر قائم ہے۔

اسرائیلی کابینہ نے ماہ جنوری کے دوران ایک 'تاریخی' منصوبے کی منظوری دی تھی جس کے تحت مقبوضہ #بیت_المقدس کے مشرقی حصے میں واقع 'مغربی دیوار' کے ساتھ ملحقہ علاقے میں مردوں اور عورتوں کے ایک ساتھ عبادت کرنے کی جگہ بنائی جائے گی۔

اس نئی عبادت گاہ کا انتظام قدامت پسند یہودیوں کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ اس منصوبے کی کھلم کھلا مخالفت کرنے والے اسرائیل کے قدامت پسند چیف ربی نے نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کرنی تھی جسے منسوخ کردیا گیا تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا "وزیر اعظم نے معاہدے کے مطابق چیف ربی اور مغربی دیوار کے ربی کو اپنے مطالبات دو سے تین ہفتوں کے اندر بھیجنے کا کہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم اپنی حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے پوری طرح راضی ہیں۔"

نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد میں شامل قدامت پسندوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی مگر اسرائیل کے مقامی ٹی وی چینل 10 کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی جھگڑا ہے کیوںکہ دونوں فریقین اس اتحاد کو ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

ایک اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس نئے حصے کی تعمیر کے فیصلے کو مذہبی امور کے وزیر سے منظوری حاصل کرنا ہوگی جو کہ قدامت پسند پارٹی 'شاس' سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہودی عقیدے کے مطابق مغربی دیوار 70ء میں رومیوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے یہودی معبد کی یادگار ہے۔ اس دیوار کے دوسری جانب مسلمانوں کا تیسرا سب سے مقدس مقام گنبد صخرا اور مسجد اقصٰی واقع ہیں۔

یہ علاقہ فلسطینی اور اسرائیلی باشندوں کے درمیان مسلسل جنگ کا میدان بنا رہتا ہے۔ اسرائیلی قانون کے مطابق یہودیوں کو مسجد کے کمپائونڈ کے اندر عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں