شامی اپوزیشن نواز صحافی ترکی میں قتل، ویڈیو جاری

مقتول صحافی شامی فوج اور داعش کے جرائم بے نقاب کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حال ہی میں ترکی کے شہر غازی عنتاب میں ایک نامعلوم شخص کی جانب سے شامی اپویشن کے حامی صحافی محمد زاھر الشرقاط پر قاتلانہ حملے کی فوٹیج خفیہ کیمرے میں محفوظ ہو گئی تھی جسے اب نشر کر دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہونے والے منظر میں دکھایا گیا ہے کہ غازی عنتاب شہر کی ایک شاہراہ عام پر پیدل چلتے ہوئے اس کے پیچھے آنے والے ایک شخص نے اسنائپر زاھر شرقاط کےسرمیں گولی ماری اور خود جائے واردات سے فرار ہو گیا۔ حملہ آور کی شناخت نہیں کی جا سکی ہے تاہم سوشل میڈیا پر حملہ آور کی تصویر کے ساتھ اس کی نشاندہی اور شناخت میں مدد کی درخواست کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نامعلوم حملہ آور کی گولیوں کے نتیجے میں شامی صحافی شدید زخمی ہے جسے ترکی کے ایک اسپتال میں علاج کے لیے داخل کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شامی اپوزیشن کے حامی اور بشارالاسد اور داعش کے مخالف سمجھے جانے والے صحافی 36 سالہ زاھر شرقاط شمالی شام کے ’الباب‘ شہر سے تعلق رکھتے ہیں مگر وہ کچھ عرصہ سے جنوبی ترکی کے غازی عنتاب شہر کی غازی مختار پاشا کالونی میں مقیم تھے اور کچھ مہینوں سے ’’حلب الیوم‘‘ نامی ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بھی وابستہ تھے۔ ایک سال قبل تک انہیں شام میں ایک امام مسجد کے طور پر شہرت حاصل تھی مگر شام سے نکلنے کے بعد انہوں نے ذرائع ابلاغ کے میدان میں شامی فوج اور داعش کے جرائم بے نقاب کرنا شروع کیے تھے۔

گو کہ ترک پولیس شرقاط پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کر رہی ہے مگر ابھی تک اصل مجرم کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ اسے داعش کے دہشت گردوں نے قاتلانہ حملے میں جان سے مارنے کی کوشش کی ہے تاہم اس کارروائی میں اسد رجیم کے اجرتی قاتلوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ترکی سے شائع ہونے والے اخبار’حریت‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جب الشرقاط کو حملہ آور نے گولیوں سے نشانہ بنایا تو اس اس وقت شرقاط کے پاس شام کے اہم مقامات کے نقشے بھی تھے۔ نیز حملہ آور نے کپڑے سے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا اس لیے اس کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں