داعش پر فضائی حملوں میں شامی شہری بھی نشانہ بن گئے : پینٹاگان
امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگان نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے گذشتہ چند روز کے دوران شام میں داعش کے جنگجوؤں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں سے بعض حملوں میں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے نتیجے میں ممکنہ طور پر شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
امریکا کی سنٹرل کمان (سینٹ کام) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ واقعات 7 ستمبر ،10 ستمبر اور 12 ستمبر کو پیش آئے ہیں لیکن اس نے اس فضائی بمباری میں ہلاکتوں یا زخمیوں کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر کو شام کے مشرقی شہر الرقہ کے نزدیک داعش کے ایک ہدف پر فضائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ 7 ستمبر کو شام کے شہر دیرالزور کے نزدیک داعش کے ایک ہدف پر امریکی طیارے نے بمباری کی تھی لیکن اس کا نشانہ اس علاقے میں آ جانے والی ایک غیر فوجی گاڑی بھی بن گئی تھی۔
12 ستمبر کو شام کے علاقے الشدادہ کے نزدیک داعش کے ایک ٹھکانے پر فضائی حملے میں بظاہر ایک غیر فوجی گاڑی نشانہ بن گئی تھی۔یہ گاڑی بھی طیارے سے بم گرائے جانے کے بعد ہدف کے نزدیک آ گئی تھی۔ واضح رہے کہ پینٹاگان یا امریکی عہدے دار بہت کم اپنے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف کرتے ہیں۔