سعودی عرب میں پہلی میراتھن دوڑ کا انعقاد
میراتھن دوڑ کا تعلق ایک تاریخی واقع سے ہے۔ سن 390 قبل مسیح میں ایران اور یونانیوں کے بیچ میراتھن کے مقام پر جنگ ہوئی تھی۔ یہ مقام یونان کے موجودہ دارالحکومت ایتھنز کے شمال مشرق میں واقع تھا۔ یہ جنگ یونانیوں نے جیت لی تھی۔ یونانی سپاہیوں نے ایتھنز کے لوگوں کو اس خوش خبری کی اطلاع دینے کے لیے ایک یونانی سپاہی فائیڈیپیڈس کو ایتھنز بھیجا۔ وہ بغیر رکے ہوئے 40 کلومیٹر تک بھاگتا ہوا ایتھنز پہنچا اور شہر والوں کو جنگ کے نتیجے کی اطلاع دی اور پھر مر گیا۔ اس فوجی کی یاد میں یونان کے لوگوں نے میراتھن کے نام سے طویل دوڑ کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔
جدید دور میں اولمپک کھیلوں کا آغاز 1896ء میں یونان میں ہوا۔ ان مقابلوں میں میراتھن دوڑ ایک بنیادی جُزو تھا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
میراتھن دوڑ کھیلوں میں برتری کی ایک علامت بن چکی ہے۔ مراکش کے جواد غریب وہ عرب ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ میراتھن کی جیت اپنے نام کی۔ مراکش میں پہلی مرتبہ میراتھن دوڑ کا انعقاد 1987ء میں ہوا جب کہ دبئی نے 2002ء میں پہلی مرتبہ اس دوڑ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا۔
سال 2003ء میں عرب دنیا میں پہلی مرتبہ خواتین کے لیے میراتھن دوڑ کا انعقاد ہوا۔ مصر میں کئی مرتبہ میراتھن دوڑ کرائی جا چکی ہے جن میں سر فہرست قاہرہ میں "فرعونی ریس" کے نام سے ہونے والی دوڑ ہے۔
آج ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں مملکت کی پہلی میراتھن دوڑ کا انعقاد ہو رہا ہے۔ دوڑ میں 25 ہزار سے زیادہ افراد شریک ہو رہے ہیں جن میں 15 ہزار سے زیادہ سعودی ہیں۔ اس دوڑ کے لیے 20 لاکھ سعودی ریال مالیت کے انعامات رکھے گئے ہیں۔
سعودی عرب میں میراتھن کے اس پہلے ایڈیشن میں عالمی سطح پر معروف کئی ایتھلیٹ شرکت کر رہے ہیں۔