الجزائر کی حکمراں جماعت کے متعدد ارکان پارلیمنٹ مستعفی: ٹی وی رپورٹ
الجزائر کی حکمران جماعت نیشنل لبریشن فرنٹ ’’ایف ایل این‘‘ کے متعدد ارکان پارلیمنٹ نے ایوان کی رکنیت سے استعفا دے کر حکومت مخالف عوام کے مظاہروں میں شرکت شروع کر دی ہے۔ اس امر کا انکشاف الجزائر کے نجی ٹی وی ’’الشروق‘‘ نے ایک نشریئے میں کیا ہے۔
اس ضمن میں مزید تازہ تفصیلات نہیں مل سکیں۔ الجزائر میں عوام صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جانب سے پانچویں بار صدارتی انتخاب لڑنے کے فیصلے کے خلاف کئی ہفتوں سے مظاہرے کر رہے ہیں۔
ادھر صدر بوتفلیقہ کے پانچویں مرتبہ صدارتی انتخاب لڑنے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کی پاداش میں دارالحکومت میں پولیس نے کم سے کم 195 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
جمعہ کے روز الجزائر میں پبلک ٹرانسپورٹ بشمول ریل اور میٹرو سروس معطل رہی۔ بوتفلیقہ کے بیس سالہ دور اقتدار کے خلاف الجزائر میں ہونے والے مظاہروں سے قبل صدر مقام میں بلوا پولیس کے دستے بڑی تعداد میں تعنیات کر دیئے گئے تھے۔
بوتفلیقہ ان دنوں جنیوا کے اہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ دو ہزار تیرہ میں فالج کے حملے کے بعد سے وہ عوام کے سامنے نہیں آئے، تاہم جمعرات کے روز انھوں نے مظاہرین کے خلاف سخت گیر بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ تیسرے ہفتے میں داخل ہونے والے عوامی احتجاج سے ملک عدم استخکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
دو ہزار گیارہ کی ’’عرب بہاریہ‘‘ کے بعد یہ بڑی احتجاجی تحریک ہے۔ ان مظاہروں نے بیاسی سالہ صدر بوتفلیقہ کے لئے بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے کیونکہ وہ ملک میں 18 اپریل سے ہونے والے انتخاب میں پانچویں مرتبہ قسمت آزمانے جا رہے ہیں۔
-
الجزائر شہریوں کے پرامن احتجاج کا حق تسلیم کرے: امریکا
امریکا نے الجزائرمیں صدرعبدالعزیز بوتفلیقہ کی پانچویں بار صدارتی انتخابات میں حصہ ...
بين الاقوامى -
بوتفلیقہ کی نامزدگی کےبعد الجزائر میں مظاہرے پھوٹ پڑے
افریقی ملک الجزائر میں معمر صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی طرف سے پانچویں بار صدارتی ...
بين الاقوامى -
بوتفلیقہ کا پانچویں مرتبہ صدر بننے کے بعد ایک سال میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان
الجزائر کے علاوہ پیرس اور مارسیلی میں بھی بوتفلیقہ کے صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف ...
بين الاقوامى