کرونا وبا: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اور کابینہ نے اپنی تنخواہوں میں کمی کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کرونا وائرس وبا کی وجہ سے اپنی اور اپنی کابینہ کی تنخواہوں میں اگلے 6 ماہ کے لیے 20 فیصد کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نیوزی لینڈ کے شہریوں کی قربانیوں کو سراہنا ہے جو اس وقت عالمی وباء کوویڈ 19 کی وجہ سے تنخواہوں میں کمی اور ملازمتوں سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج میں اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ میں، میرے حکومتی وزیر اور پبلک سروس چیف ایگزیکٹو اگلے 6 ماہ تک 20 فیصد کمی کے ساتھ اپنی تنخواہیں وصول کریں گے۔

جیسنڈا آرڈرن نے مزید کہا کہ تنخواہوں میں کٹوتی سے ان کی حکومت کی مالی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اس اقدام کا مقصد اس قیادت کا اظہار ہے جو ان کی کابینہ اس موقع پر دکھائی ہے۔

کرونا وبا کیخلاف اقدامات پر نیوزی لینڈ حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کی جارہی ہے۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے 23مارچ کو غیر ملکی افراد کیلئے ملکی سرحدیں بند کرتے ہوئے ملک میں چار ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا، حکومت کی جانب سے ضروری اشیاء کی خریداری کے علاوہ غیر ضروری باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے اور اب تک 9 اموات کے ساتھ 1386 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں