ایران میں ایک سائبرحملے کے بعد حکومت کی جانب سے بھاری زرِتلافی پرمہیاکیے جانے والے گیسولین کی فروخت میں خلل پڑا ہے اوراس کے نتیجے میں ملک بھرکے گیس اسٹیشنوں پرلمبی قطاریں لگی نظرآرہی تھیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اطلاع دی ہے کہ ’’منگل کے روز گیس اسٹیشنوں کا ایندھن بھرنے کا نظام سائبرحملے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہواہے۔ تکنیکی ماہرین اس مسئلہ کو ٹھیک کر رہے ہیں اور جلد ہی ایندھن بھرنے کا عمل... معمول پرآ جائے گا۔‘‘
یہ رکاوٹیں ایندھن کی قیمتوں میں 19نومبر2019ء کو اضافے کےدوسال مکمل ہونے سے چار ہفتے قبل سامنے آئی ہیں۔حکومت کے اس اقدام کے خلاف ایرانیوں نے سڑکوں پرنکل کر سخت احتجاج کیا تھا اور ایرانی سیکورٹی فورسز کی احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پُرتشدد کارروائیوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
ایران میں ایندھن سپلائی چین کے بنیادی ڈھانچے پربڑے سائبرحملے کے بعد گیس اسٹیشنوں پریہ انتباہی پیغام دکھائی دے رہاہے :
’’سائبر حملہ،64411‘‘۔یہ ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے دفتر کا ٹیلی فون نمبر ہے۔
After a large scale cyber attack on Iran's fuel supply chain infrastructure, gas stations are showing this warning message:
— OSINT Insider (@OSINT_Insider) October 26, 2021
"Cyber Attack, 64411"
That is telephone number of #Iran's supreme leader's Khamenei's office. pic.twitter.com/x3cpzkOHeg
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے حوالے سے بظاہرہیک کی گئی سڑکوں پرنشانات دکھائے گئے ہیں جن پر’’خامنہ ای، ہمارا گیسولین کہاں ہے؟‘‘جیسے پیغامات تھے۔تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ طور پرتصدیق نہیں ہوسکی۔
ماضی میں بھی ایران کو کئی سائبرحملوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ جولائی میں وزارت ٹرانسپورٹ کی ویب سائٹ پر سائبر حملہ کیا گیا تھا۔سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس کو’’سائبر خلل‘‘کا نام دیا تھا اوراس کے نتیجے میں ویب سائٹ کوبند کردیا گیا تھا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آن لائن حملوں کے حوالے سے ہائی الرٹ ہے۔اس نے ماضی میں امریکااوراسرائیل پران سائبرحملوں کے الزامات عاید کیے تھے۔دریں اثنا امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں نے ایران پرالٹاالزام لگایا ہے کہ وہ خود ان کےنیٹ ورکس میں خلل ڈالنےاوردراندازہونے کی کوشش کررہا ہے۔