افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں ایک منی وین میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ہرات میں طالبان کمانڈر مولوی انصاری نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے میں نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔فوری طورپر دھماکے کی وجہ واضح نہیں ہوسکی۔
ہرات میں محکمہ صحت کے ایک عہدہ دارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی شام چھے بجے کے فوری بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی ایک چھوٹی وین میں دھماکا ہوا تھا اور زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔
گذشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان بھر میں متعدد بم دھماکے اور حملے ہوئے ہیں۔ سخت گیرجنگجو گروپ داعش نے ان میں سے بعض بم حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے دعوے کیے ہیں۔
ان بم حملوں اور دھماکوں نے طالبان کی نئی انتظامیہ کے لیے امن وامان برقرار رکھنے کے چیلنجوں کو بڑھا دیا ہے جبکہ جنگ زدہ ملک اس وقت بدترین معاشی بحران سے دوچار ہوچکا ہے اور طالبان حکومت عالمی برادری سے مالی امداد مہیا کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔