متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت احمد علی الصایغ سے ابوظبی میں افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے نے ملاقات کی ہے اوران سے طالبان کی قیادت میں جنگ زدہ ملک میں انسانی بحران سے نمٹنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق احمد علی الصایغ اورتھامس ویسٹ نے افغانستان کے بحران پر متحدہ عرب امارات اور امریکا کے درمیان تعاون کے امکانات پربات چیت کی ہے۔
الصایغ نے افغانستان میں انسانی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کا ذکرکیا۔خاص طور پر صحت اور خوراک کے شعبوں میں اقدامات کے کے بارے میں ایلچی کو بتایا۔انھوں نے امدادی کوششوں کے حصے کے طور پرلڑکیوں کی تعلیم کویقینی بنانے کی اہمیت پربھی زور دیا۔
امریکی ایلچی نے افغان عوام کی مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کے تعاون کی تعریف کی اورافغانستان کے بہتر مستقبل اوراس کے عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے عالمی برادری کی کوششوں کو تیزکرنے کی ضرورت پر زوردیا۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد یواے ای نے افغانستان کی نئی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقتدار کی تبدیلی کے عمل اور امریکیوں سمیت غیرملکیوں کے انخلا میں اہم کردارادا کیاتھا۔اس نے سابق افغان صدراشرف غنی سمیت کابل سے بے دخل ہونے والوں سابق ارباب اقتدارکی میزبانی کی ہے اورغریب ملک کو فراخدلانہ امداد بھیجی ہے۔
ستمبر2021ء میں متحدہ عرب امارات نے افغانستان کوپانچ کروڑڈالر(184 ملین درہم) مالیت کی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔طالبان حکام نے گذشتہ جمعہ کو بتایا کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی کو کابل کے ہوائی اڈے پر مسافروں اور سامان کی سکیورٹی اسکریننگ کا کام سونپا ہے کیونکہ ملک بین الاقوامی پروازوں میں توسیع کرنا چاہتا ہے۔
دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے افغانستان کو 72 کروڑڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔نیویارک ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق امریکاکے پاس سات ارب ڈالرکے افغان اثاثے بھی ہیں۔صدرجو بائیڈن نے فروری میں ان کے اجراء کی اجازت دی تھی اور ان رقوم کو دہشت گردی سے متاثرہ امریکیوں اورافغانوں کے درمیان تقسیم کرنےکا اختیاردیا تھا۔