یورپ کا سفر مزید آسان ’سیاحتی شینگن ویزہ‘ اب آن لائن دستیاب ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین میں شینگن ویزہ پر داخلہ اب مزید آسان ہوگیا ہے کیونکہ شینگن ویزا حاصل کرنے کے لیے کاغذی کارروائی یا ڈاک ٹکٹ اور اسٹیکرز کی ضرورت نہیں ہے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک اور یورپی قانون سازوں نے منگل کو شینگن ویزا کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنے پر اتفاق کیا تاکہ پاسپورٹ پر اسٹیکرز کی ضرورت کے بغیر اسے زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹیلائز کیا جا سکے۔

نیا قانون ایک بار باضابطہ طور پر منظور ہونے اور لاگو ہونے کے بعد ایسے مسافروں کو سہولت دےگا جنہیں یورپی یونین میں داخلے کے لیے ویزا کی ضرورت ہے۔ وہ قونصل خانے یا ویزا سروسز کے دفاتر میں آنے کے بجائے آن لائن درخواست دے سکیں گے۔

"آسان، سستا اور تیز"

یورپی رکن پارلیمنٹ ماتیز نیمک جو ویزوں کے لیے ڈیجیٹل نظام کو اپنانے کے سب سے نمایاں حامیوں میں سے ایک ہیں نے تصدیق کی کہ درخواست دہندگان اس عمل کو "آسان، سستا اور تیز تر" پائیں گے۔

سویڈن کی امیگریشن وزیر ماریا مالمر سٹینرگارڈ نے کہا کہ اس تبدیلی سے "شینگن علاقے کی سکیورٹی میں اضافہ ہوگا ہے۔ مثال کے طور پر دھوکہ دہی اور ویزا اسٹیکرز کی چوری کے خطرات کو کم کر کے علاقے کو مزید پرامن بنایا جا سکتا ہے۔"

شینگن علاقے میں قبرص، آئرلینڈ، بلغاریہ اور رومانیہ کے علاوہ یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک شامل ہیں۔

یورپی یونین بلاک سے باہر 60 سے زائد ممالک کے شہریوں کو بغیر ویزا کے داخلے کی اجازت دیتی ہے۔ فی الحال جن مسافروں کو ویزا کی ضرورت ہے، ان کے پاسپورٹ پر شینگن اسٹیکر ہونا ضروری ہے۔

"ڈیجیٹائزیشن" کی طرف

تاہم مسافروں کے داخلے اور اخراج کی نگرانی کے لیے یورپی یونین کے ڈیٹا بیس کے قیام، قیام کی مدت کی درستی کے ساتھ سرحدوں پر حفاظتی جانچ پڑتال کا یورپی ویزا نظام مسلسل ڈیجیٹائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔

کچھ ممالک جن میں آسٹریلیا، بھی شامل ہے ایسا ہی نظام اپناتے ہیں جہاں آن لائن ویزا مسافر کے پاسپورٹ سے بغیر اسٹیکر کے منسلک ہوتا ہے۔

ان سسٹمز کا استعمال کرتے ہوئے درخواست دہندگان مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کر سکتے ہیں اور فیس ادا کر سکتے ہیں۔

تاہم یورپی یونین کے نئے نظام کے تحت درخواست دہندگان کو پہلی بار شینگن ویزا حاصل کرنے کی ضرورت ہے یا جن کے پاس نیا پاسپورٹ ہے یا جنہوں نے اپنا بائیو میٹرک ڈیٹا تبدیل کیا ہے تاکہ وہ قونصل خانے یا ویزا دفاتر میں ذاتی طور پر حاضر ہوں اور اس حوالے سے کوائف مکمل کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں