سرکاری میڈیا نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے ہوائی اڈے کے مسافر ٹرمینل پر فضائی حملے کی وجہ سے عارضی تعطل کے بعد تہران اور ایران کے دیگر مقامات پر ہوائی اڈوں نے پیر کو دوبارہ کام شروع کر دیا۔ اس تعطل سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
ہفتے کے آخر میں ایران کی جانب سے اسرائیلی سرزمین پر پہلا براہِ راست حملہ ہوا جس کے بعد پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔ یکم اپریل کو دمشق میں تہران کے قونصل خانے پر ایک ہلاکت خیز فضائی حملہ کیا گیا جس کی ذمہ داری بڑے پیمانے پر اسرائیل سے منسوب کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں ہونے والے ایرانی حملے میں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے اطلاع دی کہ "تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صبح 6:00 بجے (0230 جی ایم ٹی) تک پروازیں معمول پر آ گئیں۔"
آئی آر این اے نے کہا، تہران کا ملکی پروازیں لے جانے والا مہرآباد ہوائی اڈہ اور ملک بھر میں دیگر ہوائی اڈے بشمول شمال مغرب میں تبریز، شمال مشرق میں مشہد اور جنوب میں شیراز سبھی "طے شدہ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔"
ایرانی حملے اور ممکنہ اسرائیلی انتقامی کارروائی کے خدشے کی وجہ سے کچھ ایئر لائنز نے خطے کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔
اسرائیل نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس کا ردِعمل کیا ہو سکتا ہے۔
جرمن ایئرلائن لفتھانزا نے ایران آنے اور جانے والی اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں جبکہ آسٹریلیا کی ایئرلائن کنٹاس سمیت دیگر نے ایران کی فضائی حدود سے گریز کرنے کے لیے طیاروں کا راستہ تبدیل کر دیا ہے۔
اس حملے نے مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک بشمول اردن، لبنان اور عراق کو ہفتے سے اتوار تک راتوں رات اپنی فضائی حدود بند کر دینے پر مجبور کر دیا لیکن سبھی دوبارہ کھل گئی ہیں۔
-
اسرائیل آج ایرانی حملے کا جواب دے سکتا ہے:امریکی میڈیا
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے 3 عہدیداروں ...
مشرق وسطی -
ایرانی فضائی حملے کے بعد اسرائیل نے سکول دوبارہ کھول دیئے
ہفتے کے آخر میں ایران کے فضائی حملے کی وجہ سے سکول بند کرنے کا حکم دینے کے بعد فوج ...
مشرق وسطی -
ایران کے خلاف جوابی کارروائی نہ کی جائے: ڈیوڈ کیمرون کا اسرائیل پر زور
برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایران کے ڈرون اور ...
مشرق وسطی