تارکین وطن کی ’ماں‘ کہلانے والی خاتون ’ماما روزا‘ کی بیماری کی خبرنےسب کوپریشان کردیا
غیرقانونی تارکین وطن کے ساتھ ’ماں‘ جیسا برتاؤ کرنے والی ماما روزا کی خدمات کو ہمشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
"میری والدہ کے بعد عزت کی مستحق صرف ماما روزا ہے"۔ یہ الفاظ یونان سے یورپ جانے والے ہزاروں غیر قانونی مراکشی تارکین وطن کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔کیونکہ ماما روزا زندگی بھر اپنے خیراتی ادارے کے ذریعے تارکین وطن کی مدد کرتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکڑوں تارکین وطن ہمیشہ مسز روزا کے احسان مند رہیں گے۔ ’مسز روزا‘ ان کے لیے ایک ’ماں‘ کی طرح تھیں جو ان کی دیکھ بھال کرتیں اور انہیں مفت کھانا، علاج، رہائش اور دیگر ضروریات فراہم کرتیں۔
’الحراقہ‘ کی ماں
جرمن خاتون مسز روزا کی بیماری کی خبر نے جو اپنے ملک میں نازک حالت میں ہے نے بہت سے "الحراقہ" کی یادیں تازہ کر دیں۔ یہ نام عام طور پر مغرب اور سب صحارا افریقیوں کے غیر قانونی تارکین وطن کو دیا جاتا تھا۔
سوشل میڈیا پر انہوں نے خاتون کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس کے لیے اچھی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح انہوں نے کئی سالوں تک ان کے لیے شاندار خدمات انجام دیں۔
تارکین وطن نے ان کے کارناموں کو بھی شیئر کیا اور لکھا کہ جب وہ یونان، البانیہ اور مونٹی نیگرو کی سرحدوں سے گذرتے ہوئےراستے میں یونانی شہر سالونیک پہنچتے مسز روزا کی تنظیم کے صدر دفترمیں ان کا استقبال کیا جاتا۔
"تارکین وطن کا آئیکن"
تاہم جس چیزنے "ماما روزا" کو غیر قانونی تارکین وطن کا "آئیکون" بنا دیا وہ "الحراقہ " کے علاج کی خود نگرانی کرنا تھا۔ وہ ان تارکین وطن کو تھکا دینے والے سفر کے بعد انہیں طبی خدمات فراہم کرتیں۔
مسز روزا نے کئی مسافروں کو دوائی اورطبی دیکھ بھال میں مدد فراہم کی کیونکہ انہوں نے مشکل موسمی حالات میں دسیوں کلومیٹر پیدل سفر کیا۔
بہت سے تارکین وطن نے بتایا کہ مسز "روزا" "الحراقہ " کو سامان اور لباس فراہم کرتیں اور انہیں ایسوسی ایشن کے ہیڈ کوارٹر میں پناہ فراہم کرتی تھیں۔
بتیس سالہ فتحی ’ب‘ نے کہا کہ وہ یورپ پہنچنے کےسفر کے دوران سرحد عبور کرتے ہوئے تقریباً موت کے قریب پہنچ گئے تھے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ یورپ میں ناکام تجربے کے بعد الجزائر واپس آئے، لیکن جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسز روزا کی خدمات کو نہیں بھولیں گے۔ خاص طور پر جب وہ ترکیہ اور یونان سے گزرے تو تھیسالونیکی شہر ’ماما روزا‘ نے ان کی مدد کی تھی۔
اسپین سے الجزائر جلاوطن ہونے کے بعد 5 سال یورپی ممالک کے درمیان گھومنے میں گذارنے والے فتحی نے مزید کہا کہ اسے اس عورت کے کارناموں کے بارے میں سننے کے بعد معلوم ہوا۔ اس نے وضاحت کی کہ ماما روزا نے میرے خراب پاؤں کا اپنے ہاتھوں سے علاج کیا تھا۔
’انسانیت کی کوئی قومیت نہیں ہوتی‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران یورپ میں رہنے والوں اور اپنے وطن لوٹنے والوں میں سے درجنوں "الحراقہ" نے "ماما روزا" کے ساتھ اپنی کہانیاں شیئر کیں۔ انہوں نے متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ واحد خاتون ہیں جوماں کے بعد عزت کی مستحق ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ: "انسانیت کی کوئی قومیت نہیں ہوتی"۔
جہاں تک "الحراقہ" کا تعلق ہےتو یہ عام طور پر مغرب اور سب صحارا افریقیوں کے غیر قانونی تارکین وطن کو دیا جانے والا نام ہے۔ بعد میں ایشیا کے تارکین وطن کوبھی الحراقہ ہی کہا جاتا رہا ہے۔
-
ورچوئل ایمبیسی : فن اور ثقافت کی دنیا میں ایک متاثر کن مستقبل کی تلاش کا سفر
سعودی دار الحکومت ریاض میں وزارت ثقافت کے زیر انتظام 'فناء الاول مرکز' میں "ورچوئل ...
مشرق وسطی -
استنبول : فلسطینی تاجر کے قتل کے فوری بعد کے مناظر
ترکیہ کے شہر استنبول میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک فلسطینی تاجر کی موت کا ...
بين الاقوامى -
خبر دار! گرمیوں میں نعمت سمجھا جانے والا ’ایئر کنڈیشنر ‘3 بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے
اس میں کوئی شک نہیں کہ ائیرکنڈیشنر گرمیوں میں بھی ایک ناگزیر ضرورت سمجھا جاتا ہے ...
ایڈیٹر کی پسند