مراکشی نوجوان سمندرمیں دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیرکرمتنازعہ علاقے ’سبتۃ‘ کیوں جارہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مراکش میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوزمیں کم عمر لڑکوں کو سمندر میں گہری دھند سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیراکی کرتے ہوئے اسپین کے زیرانتظام خود مختار متنازعہ علاقے ’سبتۃ‘ کی طرف جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ’سبتۃ‘ نامی علاقہ جبل الطارق کی تنگ سمندری پٹی کے پار اسپین میں واقع ہےاور اس پر مراکش بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ سیکڑوں مراکشی لڑکے دھند کے موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ شہر ’سبتۃ (سیوٹا) کی سرحدی کراسنگ تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک ایسے ہی منظرمیں ’فیس بک‘ پرپوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے بارے کہا گیا ہے کہ ایک مراکشی خاتون ساحل سمندر سے اپنے بیٹے کو آواز دے کر سمندر سے واپس بلا رہی ہے اور اسے کہتی ہے کہ وہ اپنی جان خطرے میں نہ ڈالے۔

متعدد سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ ’سبتۃ‘ اور میلیلہ کراسنگ کی بندش کے بعد سے باشندے مشکل سماجی حالات میں رہ رہے ہیں۔ پچھلے برسوں کے مقابلے میں ان علاقوں میں روزگار کے مواقع کم ہیں۔

اسپینی میڈیا کی رپورٹس ہسپانوی سول گارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیاگیا ہے کہ گذشتہ گھنٹوں کے دوران تقریباً 400 غیر قانونی تارکین وطن کو مراکش واپس بھیج دیا گیا۔ انہوں نے گھنی دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ’سبتۃ‘ تک تیرنے کی کوشش کی۔

اسی ذریعے کے مطابق 60 سے زائد مراکشی تارکین وطن نے گذشتہ اتوار کی صبح شہر کے قریب بحیرہ روم کے ساحل پر تیرنے کی کوشش کی۔ انہیں ہسپانوی حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔ ان میں سے 17 کے قریب تاراخال بیچ پر پہنچنے اور سیر کرنے والوں کے ساتھ گھل مل گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں