الجزائر کے صدارتی امیدوار نے ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے۔ اتوار کے روز انتخابات کے نتائج سامنے آجائیں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ صدر عبد المجید تببو نے دوسری مرتبہ صدر کے عہدے پر فائز ہوں گے۔
انتخابات میں بہت کم ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا ہے۔ 48 فیصد ٹرن آؤٹ کے ساتھ عبد المجید تببونے ، عبد العلی حسنی شریف اور جوزیف آوچی صدارتی امیدوار تھے ۔
حسنی شریف کی مہم کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کی پولنگ سٹیشن پر ڈیوٹی دینے والے عملے پر دباؤ ڈالا گیا ہے ۔
تاہم امیدوار کی طرف سے ایسا نہیں کہا گیا ہے کہ اس سے نتائج متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تببونے کا ایک مرتبہ پھر جیتنا یقینی ہے۔ اس جیت کا مطلب یہ ہوگا کہ توانائی کی آمدنی میں اضافے کی بنیاد پر الجزائر کا ترقی کا سفر جاری رہے گا۔ خیال رہے 2019 میں تببونے کے صدر منتخب ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی تھی۔
خیال رہے 2019 کے انتخابات میں ٹرن آوٹ 40 فیصد رہا تھا۔ جبکہ ان انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ مخالف مزاج کی عکاسی بھی ہوئی۔
ان کی مہم میں کہا گیا کہ بیروزگاروں کو روزگار فراہم کیا جائے گا، پنشن میں اضافہ کیا جائے گا۔ واضح رہے ان پر پہلی صدارتی مدت میں عمل بھی کیا گیا۔
-
بزرگ شخص کو سٹیڈیم سے باہر نکالنے پر الجزائری سوشل میڈیا میں شدید غم وغصہ
الجزائر کی قومی ٹیم کے مداح کی طرف سے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا مطالبہ کرنے ...
بين الاقوامى -
الجزائر میں ملک کے لیے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ
24 ملین سے زیادہ ووٹرز تین امیدواروں میں سے ایک منتخب کریں گے،عبد المجید تبون کا ...
بين الاقوامى -
'بی بی سی' غزہ کی انسانی ہمدردی کی اپیل کو مسدود کر رہا ہے : ذرائع
برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کے متعلق 'ڈیزاسٹر ایمرجنسی کمیٹی' کے ذرائع نے کہا ...
مشرق وسطی