طلبا، تعلیمی اداروں کے خلاف عالمی حملوں میں اضافہ، یونیسکو نے خبردار کر دیا

بیس فیصد کا یہ اضافہ خاص طور پر جنگ زدہ ممالک میں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اقوامِ متحدہ نے پیر کو کہا کہ 2022 اور 2023 میں طلباء اور تعلیمی اداروں کے خلاف حملوں میں تمام دنیا میں گذشتہ دو سالوں کے مقابلے میں 20 فیصد اضافہ ہوا، خاص طور پر جنگ زدہ ممالک میں۔

اقوامِ متحدہ کی ثقافتی ایجنسی یونیسکو نے گلوبل کولیشن فار پروٹیکٹنگ ایجوکیشن فرام اٹیک کی ایک تحقیق کا حوالہ دیا جس کا یونیسکو رکن ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ "2022-2023 میں تمام دنیا میں طلباء، پیشہ ور افراد اور تعلیمی اداروں کے خلاف 6,000 -- اوسطاً یومیہ آٹھ حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں ان اداروں کے فوجی استعمال کے 1,000 واقعات شامل ہیں۔"

"یہ گذشتہ دو سالوں میں 20 فیصد اضافے کی نشان دہی کرتا ہے"۔

اس میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے "اس وقت مسلح تصادم کا سامنا کرنے والے ممالک میں زیادہ کثرت سے ہوئے جن میں اہم ترین میانمار، شرقِ اوسط اور خاص طور پر غزہ، جمہوریہ کانگو، سوڈان، یوکرین اور یمن ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں