متنازعہ ریاست جموں و کشمیر: سری نگر میں گرینیڈ حملہ قابل مذمت ہے ، وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت کے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ نے سری نگر کے مصروف کاروباری مرکز میں گرینیڈ حملے میں گہری پریشانی اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔

اس حملے کے بارے میں سری نگر پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ حملہ اتوار کے روز کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس گرینیڈ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کا کوئی جواز نہیں ہے جس میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جائے۔

تاہم وزیر اعلیٰ نے اپنے مذمتی بیان میں یہ نہیں بتایا کہ مجموعی طور پر اس واقعے میں کتنے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ مگر پولیس کے سینیئر حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گرینیڈ حملے کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہوئے ہیں جو تمام کے تمام عام شہری تھے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے درجنوں لوگوں کو دکھایا جو اس واقعے کے بعد پولیس یونیفارم میں موجود تھے اور انہوں نے اس علاقے اور اس کے قریب کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا۔

پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ تاہم اب تک کی اطلاعات کے مطابق تمام کی حالت بہتر ہے اور کسی قسم کے خطرے کی بات نہیں ہے۔

متنازعہ ریاست جموں و کشمیر مسلم اکثریتی آبادی کی حامل ریاست ہے۔ جسے 1947 کے تقسیم ہند منصوبے کے تحت عوامی رائے کی روشنی میں نئے وجود میں آنے والے مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں شامل ہونا تھا۔ تاہم اس کے بڑے حصے پر تب سے بھارت کا قبضہ چلا آ رہا ہے اور کشمیری اس قبضے کے خلاف سالہا سال سے جدوجہد کر رہے ہیں۔

کشمیریوں کی جدوجہد کو روکنے کے لیے 1989 سے لے کر آج بھی لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج تعنیات ہے۔ تاہم فوج کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی اور کشمیریوں کی ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتوں کے باوجود کشمیری آج بھی اپنی آزادی کے لیے کوشاں ہیں۔

بھارت کشمیریوں کی اس جدوجہد کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔ جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی مدد کو ہمیشہ جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں