ویتنام کی دفاعی نمائش: ایران، اسرائیل مدِ مقابل

فوجی ترسیل میں تنوع لانے اور روس پر طویل انحصار کم کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ویتنام کی وزارتِ دفاع نے منگل کو کہا، ایران، اسرائیل، چین، روس اور امریکہ کی کمپنیاں دسمبر میں ہنوئی میں ہتھیاروں کی نمائش میں اپنا فوجی ساز و سامان پیش کریں گی جو جغرافیائی سیاسی حریفوں ایران اور اسرائیل کے ایک ہی جگہ پر اپنے سامان کی نمائش کا ایک نادر موقع ہو گا۔

کمیونسٹ طرزِ حکومت کا حامل ویتنام برسوں سے اپنی فوجی ترسیل میں تنوع لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ روس پر اپنے عشروں پر محیط انحصار کو کم کر سکے اور اس نے متعدد ممالک کے ساتھ خریداری کے ممکنہ سودوں پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ یوں ویتنام عظیم طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی لچکدار سفارت کاری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا، "19-22 دسمبر کو دارالحکومت ہنوئی میں منعقدہ دفاعی نمائش میں 27 ممالک کی تقریباً 200 کمپنیوں بشمول چین اور ایران کی فرمز نے پہلے ہی بوتھ محفوظ کر لیے ہیں جنہوں نے 2022 میں ویتنام کے پہلے بین الاقوامی فوجی میلے میں شرکت نہیں کی تھی۔

یہ نمائش اسرائیل اور ایران کی دفاعی کمپنیوں کو یکجا کرے گی جنہوں نے گذشتہ سال ایک دوسرے پر میزائل اور فضائی حملے کیے ہیں۔ ایران زبردست مغربی پابندیوں کے باوجود اس میں شرکت کرے گا۔

2022 کے گذشتہ ایڈیشن میں اسرائیلی دفاعی فرمز البیط سسٹمز اور رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز نمائش کنندگان میں شامل تھیں۔

ویتنام کی وزارتِ دفاع نے تاحال شرکاء کی مکمل فہرست جاری نہیں کی اور یہ واضح نہیں ہے کہ کون سے ہتھیاروں کی نمائش ہو گی۔ کمپنیاں بعض اوقات اپنے بڑے ہتھیاروں کے صرف ماڈل ہی دکھاتی ہیں۔

منگل کو ایکسپو کے بارے میں ایک پریس کانفرنس کے موقع پر دفاعی صنعت کے شعبے کے نائب سربراہ لی کوانگ ٹوین نے کہا، امریکی پابندیوں کا شکار چین کی سرکاری دفاعی کمپنی نورینکو گروپ نمائش میں شامل ہو گی۔

ٹوین نے مزید کہا کہ ہنوئی کے مضافات میں فوجی ایئرپورٹ کے اسی بڑے نمائشی علاقے میں امریکی کمپنیوں بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کے بوتھ بھی ہوں گے۔

لاک ہیڈ مارٹن مٹھی بھر فوجی نقل و حمل کے سی-130 ہرکولیس طیاروں کی فراہمی کے لیے ویتنام کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہا ہے، رائٹرز کی ایک سابقہ رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے ایک سینئر امریکی اہلکار نے اس ماہ کے شروع میں یہ بات کہی تھی۔

کمپنی کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

ویتنام کی لچکدار خارجہ پالیسی کے لیے ایک مقبول تعریف استعمال کرتے ہوئے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز میں ویتنامی سکیورٹی کے ایک ماہر نگوین دی فوونگ نے کہا، حاضرین کی مختلف فہرست (اپنی مضبوطی اور استقامت کی بنا پر) "بانسوں کی سفارت کاری کا اظہار" ہے۔

انہوں نے کہا، ویتنام کسی بھی مناسب شراکت دار کے ساتھ معاملات طے کرے گا بالخصوص دفاع کے شعبے میں۔"

وزارتِ دفاع نے کہا کہ ملک اس میلے کو غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی ملکی صنعت کو فروغ دے اور "برآمد کے مواقع تلاش کرے۔"

ٹوین نے کہا، 2022 کی نمائش میں ویتنام نے غیر ملکی دفاعی فرمز کے ساتھ پانچ معاہدوں پر دستخط کیے اگرچہ ان کے لیے کوئی عوامی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں