شام کے محاذ پر بدھ کے روز بھی گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ لڑائی کے دوران ایک بار پھر ڈرامائی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اچانک شام میں سرکاری فوج کو پسپا کرنے والے اپوزیشن جنگجو حماۃ میں اسی تیزی کے ساتھ پسپائی اختیار کرنے لگے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت میں شامی ٹیلی ویژن نے ادلب اور اس کے دیہی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے گوداموں اور گاڑیوں پر فوج کے فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ فوج حماۃ کے شمال مشرق اور شہر کے شمال مغربی دیہی علاقوں میں پرتشدد جھڑپوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شامی فوج کے یونٹ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور حماۃ شہر کے حفاظتی زون کو تقریباً 20 کلومیٹر تک پھیلانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
مقامی اخبار الوطن نے اطلاع دی ہے کہ شامی افواج نے مسلح اپوزیشن کے جنگجوؤں کو ملک کے مغرب میں واقع حماۃ شہر سے 20 کلومیٹر دور پسپائی پر مجبور کر دیا۔ دریں اثنا سیریئن آبزرویٹری نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ شامی فورسز کے جوابی حملے نے دھڑوں کو حماۃ سے 10 کلومیٹر دور دھکیل دیا گیا ہے۔
اس سے پیشتر ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ کے نامہ نگار نے اطلاع دی تھی کہ حماۃ شہر کے مشرق اور شمال مشرق میں جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ لڑائیاں زین العابدین کے گرد مرکوز ہیں جو حماۃ کا گیٹ وے ہے۔ ہمارے نامہ نگار نے حماۃ کے دیہی علاقوں میں جہاں دھڑوں نے پیش قدمی کی ہے ان علاقوں میں روسی اور شامی طیاروں کے شدید حملوں کی خبر دی۔ نامہ نگار نے بتایا کہ مسلح دھڑے حماۃ شہر سے 5 سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔
شامی فوج نے کہا کہ اس نے حماۃ کے دیہی علاقوں میں سب سے بڑا فوجی قافلہ پہنچایا ہے تاکہ محاذوں پر تعینات فورسز کی مدد کی جا سکے اور 25ویں ڈویژن کمانڈ اور حماۃ شہر کے پورے علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
شامی فوج کی طرف سے ادلب اور حلب کے دیہی علاقوں میں روسی فضائی کور کی مدد سے پرتشدد حملے کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ حمص میں ہونے والے دھماکے شامی اور روسی فضائیہ کے حملوں کی وجہ سے ہوئے۔
شامی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لڑائی شروع ہونے کے بعد سے غیر ملکی قومیتوں کے مسلح دھڑوں کے کم از کم 200 ارکان کو ہلاک کیا ہے اور مزید کہا کہ اس نے مسلح دھڑوں کی جانب سے شروع کیے گئے 20 سے زیادہ ڈرونز کو تباہ کرنے میں کردیا۔
شامی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مختلف مقامات پر اس کی افواج کو فوجی کمک پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ بڑی فوجی کمک حماۃ کے دیہی علاقوں کی طرف روانہ ہو رہی ہے، جہاں اس کی افواج اور مسلح دھڑوں کے درمیان پرتشدد لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ .
شامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شامی فوج نے حماۃ گورنری کی شمالی اور مغربی سرحدوں پر اپنے دفاع کو مضبوط کر لیا ہے جہاں وہ مسلح دھڑوں کے خلاف پرتشدد جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حماۃ کے دیہی علاقوں کے شمال اور مغرب میں کئی محوروں پر جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے دھڑے شہر کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔
اپوزیشن دھڑوں نے اعلان کیا کہ وہ حماۃ کے قرب و جوار میں طیبہ الامام، حلفایا اور معردیس کے قصبوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جو شہر کے شمال اور شمال مغرب میں واقع قصبے ہیں۔
قبل ازین سیریئن آبزرویٹری نےکہا تھا کہ مسلح دھڑے اب حماۃ شہر کے شمال میں 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔
شدید روسی شامی بمباری
دریں اثنا سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ ھیۃ تحریر الشام کی قیادت میں مسلح دھڑوں نے حماۃ کے دیہی علاقوں میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دی ہے۔ اس نے دس سے زائد قصبوں اور دیہاتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب وہ شہر کے دروازوں پر ہیں۔
آبزرویٹری نے مزید کہا کہ "تحریر الشام محاذ" ابھی تک حماۃ شہر میں داخل نہیں ہوئی ہے۔ اس نے وضاحت کی ہے کہ "تحریر الشام" حماۃ شہر کو شمالی جانب سے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کا مقصد ہے شہر کا تین اطراف سے محاصرہ کرنا ہے۔
سیریئن آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بھی العربیہ اور الحدث کو دیے گئے بیانات میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حماۃ شہر پر شامی فوج کا ابھی تک کنٹرول ہے۔
اسی حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر شامی حکومت ایرانی افواج کو دمشق بھیجنے کی درخواست کرتی ہے تو تہران اس درخواست پر غور کرے گا۔
عراقچی کے بیانات اس وقت سامنے آئے جب وہ غیر ملکی دورے سے واپس تہران پہنچے ہیں۔ انہوں نے دمشق اور انقرہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شام کی صورتحال کے مستقل حل کے لیے اقدامات اور تجاوزیر پربات کی۔