شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ "المرصد" کے مطابق سرکاری فوج "تحریر الشام" کی پیش قدمی روکنے کے لیے چوکنا ہو گئی ہے۔ اس سے قبل تنظیم نے اتحادی مسلح گروہوں کے ساتھ مل کر تین سمتوں سے حمات شہر کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ یہ شام کا چوتھا بڑا شہر ہے۔
ادھر تحریر الشام تنظیم اپنی فدائی ٹیم "العصائب الحمراء" کے ذریعے معرکے کو فیصلہ کن بنانے کی کوشش میں ہے۔ یہ بات المرصد کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے العربیہ نیوز چینل کو بتائی۔
تاہم مذکورہ ٹیم جبل زین العابدین کے علاقے میں شامی فوج کی جانب سے مضبوط گھات میں پھنس گئی جس کے نتیجے میں فوج نے مسلح گروپوں کو حمات شہر سے تقریبا 10 کلو میٹر دور کر دیا۔
ادھر حمات کے پولیس سربراہ میجر جنرل حسین جمعہ نے تصدیق کی ہے کہ مسلح گروپوں کے شہر میں داخل ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ شہر میں آبادی کی نقل و حرکت معمول کے مطابق ہے اور یہاں سے نقل مکانی نہیں ہو رہی ہے۔
گذشتہ روز حمات شہر کے شمال اور مشرق میں مسلح گروپوں کی شامی فوج کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران میں شامی فوج کو روسی فضائیہ کی مدد حاصل تھی۔
حمات کا شمار مرکزی شہروں میں ہوتا ہے جس پر قبضے کا مقصد شامی صدر بشار الاسد پر دباؤ بڑھانا ہے۔ بالخصوص جب کہ مسلح گروپوں نے گذشتہ ہفتے کئی برسوں بعد اپنی سب سے بڑی پیش قدمی میں شام کے دوسرے بڑے شہر حلب پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلح گروپوں کی اس تیز پیش قدمی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے کنٹرول میں لی گئی اراضی کو برقرار بھی رکھ پائیں گے۔
تحریر الشام تنظیم نے گذشتہ ہفتے حلب شہر کے علاوہ شامی فوج کے کئی فوجی اڈوں اور 4 ہوای اڈوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
مسلح گروپوں کے عسکری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حلب کے علاقوں سے نکل جانے والی سرکاری فوج نے ہتھیاروں اور ساز و سامان کی بھاری تعداد چھوڑ دی۔
تحریر الشام تنظیم دیگر گروپوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں شریک ہے۔ ان سب کو ترکیہ کی حمایت حاصل ہے۔ انقرہ 'سیرین نیشنل آرمی' کو بھی سپورٹ کر رہا ہے جو سرحدی اراضی کی ایک پٹی پر کنٹرول رکھتی ہے۔
ترکیہ شام میں "کرد جماعتوں" کو اپنی سرحد سے دور کرنا چاہتی ہے اور وہاں ان پناہ گزین شاموں کا علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے جو اس وقت ترکیہ میں رہ رہے ہیں۔