ہفتے کے روز یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اپنے روسی ہم منصب پوتین پر یوکرین میں جنگ بندی کے نفاذ اور محاذ کی صورتحال کے بارے میں جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے۔
انہوں نے کہا ہے پوتین زمینی صورتحال کے بارے میں سب سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ خاص طور پر کرسک کے علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے جہاں ہماری یوکرینی افواج اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، کے متعلق جھوٹ بولا جارہا ہے۔ ایجنسی فرانس پریس کے مطابق زیلنسکی نے مزید کہا کہ پوتین یہ بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ جنگ بندی کس طرح بہت پیچیدہ ہے۔
محاصرہ میں نہیں ہیں
اس سے قبل زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک کی افواج اب بھی روس کے سرحدی صوبے کرسک میں لڑ رہی ہیں اور ان کا محاصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ ملک کے مشرق میں یوکرینی شہر پوکروسک کے قریب صورتحال مستحکم ہو گئی ہے لیکن روس شمال مشرقی یوکرین میں علاقے سومی کی سرحد کے پار اپنی افواج کو متحرک کر رہا ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو پوتین نے اعلان کیا تھا کہ روسی افواج نے کرسک میں یوکرین کے باقی ماندہ فوجیوں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
زیلنسکی نے یوکرین میں جنگ بندی کی تجویز پر پوتن کے ردعمل کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ظاہر کی گئی امید کے تناظر میں ماسکو کے ارادوں پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا خیال تھا کہ روس اب جنگ کے خاتمے سے بچنے کے لیے مختلف حیلے بہانوں کی تلاش میں ہے۔ زیلنسکی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بیانات میں یہ بھی کہا کہ روسی ہیرا پھیری جنگ کو طول دے گی۔
دباؤ کی ضرورت
یوکرینی صدر زیلنسکی نے نشاندہی کی ہے کہ کل کا دن مذاکرات سے بھرا ہوا تھا جو امن کو قریب لائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یوکرین نے فضائی، سمندری اور زمینی راستے سے لڑائی روکنے کی امریکی تجویز کو قبول کر لیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا ملک بات چیت کے دوران تعمیری انداز اپنانے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، انہوں نے ماسکو پر تعمیری مؤقف اختیار کرنے اور اس پر جوڑ توڑ کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پوتین کو اچھی طرح جانتا ہوں: ٹرمپ
جمعہ کو ٹرمپ نے روسی موقف کے حوالے سے اپنی امید کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے پروگرام ’’ فُل میزر‘‘ میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ انھیں یقین ہے کہ پوتین واشنگٹن کی تجویز سے اتفاق کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پوتین کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ جنگ بندی پر راضی ہوں گے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بات تھوڑی طنزیہ تھی جب انہوں نے بطور صدارتی امیدوار ایک سے زیادہ بار دعویٰ کیا تھا کہ وہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی 24 گھنٹوں کے اندر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ روک دیں گے۔
انہوں نے کہا "ٹھیک ہے، جب میں نے کہا کہ میرا اصل مطلب یہ ہے کہ میں اس مسئلے کو حل کرنا چاہوں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا۔" یہ ٹرمپ کی طرف سے ایک نادر اعتراف ہے جن کے پاس مبالغہ آمیز دعووں کا ایک طویل ریکارڈ ہے۔
پوتین اور وِٹکوف کی ملاقات
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے گزشتہ روز ماسکو میں پوتین کے ساتھ ساتھ دیگر روسی حکام سے ملاقات کی ہے تاکہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور یوکرین نے 11 مارچ کو سعودی عرب میں ہونے والی بات چیت کے دوران روس کے جواب کا انتظار کرتے ہوئے 30 دن کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ ماسکو نے اشارہ دیا ہے کہ کوئی بھی عارضی جنگ بندی اس وقت تک مفید نہیں ہوگی جب تک کہ اس میں ایسے عوامل شامل نہ ہوں جو مستقل امن کی راہ ہموار کرتے ہوں۔
-
پوتین کے ساتھ بات ہوئی ہے، مجھے لگتا ہے وہ ہمارے ساتھ ڈیل کر لیں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کے ایلچی کیلوگ سے پوتین ناراض، کیا روس انہیں نکالنا چاہتا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے مقصد سے حال ہی میں سعودی عرب میں ...
بين الاقوامى -
پابندیوں میں نرمی... پوتین کے لیے ٹرمپ کا ممکنہ تحفہ
ایسے وقت میں جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماسکو کے ساتھ تعلقات بحال کرنے اور یوکرین ...
مشرق وسطی