رسوا کُن فاش کے بعد امریکی قومی سلامتی مشیر کا انجام کیا ہو گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی جریدے "دی اٹلانٹک" کے چیف ایڈیٹر جیفری گولڈبرگ کی جانب سے اس اسکینڈل کے انکشاف کے بعد جس میں انھوں نے غلطی سے ایک انتہائی خفیہ پیغام رسانی گروپ میں اپنی شمولیت کا ذکر کیا ... امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والز کے مستقبل کے بارے میں سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مذکورہ پیغام رسانی گروپ میں یمن میں حوثیوں پر امریکی حملوں پر بات کی جارہی تھی۔

انگریزی ویب سائٹ "پولیٹیکو" نے وائٹ ہاؤس میں ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ قومی سلامتی مشیر کے انجام کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا ہے ، غالب گمان ہے کہ انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ اس حوالے سے آئندہ ایک یا دو روز میں حتمی فیصلہ کریں گے۔

دو امریکی ذمے داران کے مطابق ٹرمپ ، والز کو امریکی قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے کا ذمے دار ٹھہرا سکتے ہیں۔ وہ اس حوالے سے اپنے وزیر دفاع کو بھی ہدف بنا سکتے ہیں کہ انھوں نے پیغام رسانی گروپ میں حساس معلومات فراہم کیں۔

امریکی جریدہ "دی اٹلانٹک" اس سے پہلے یہ بتا چکا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دو سینئر عہدے داران نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر دفاع پیٹ ہیگزے نے غلطی سے ایک صحافی کو اس گروپ میں شامل کر لیا جس میں یمن میں ایران کے اتحادی حوثیوں کے خلاف حملوں کو زیر بحث لایا جا رہا تھا۔

جریدے کے چیف ایڈیٹر جیفری گولڈبرگ نے اس سلسلے میں پیر کے روز ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ ان کے مطابق امریکی وزیر دفاع ہیگزے نے حوثیوں پر حملوں سے چند گھٹنے قبل پلان کی عملی تفصیلات گروپ میں پوسٹ کی تھیں۔ ان میں اہداف کے علاوہ امریکا کی جانب سے تعینات ہتھیاروں کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز کے مطابق چیٹنگ گروپ بظاہر حقیقی معلوم ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ "فی الوقت ایسا لگ رہا ہے کہ رپورٹ میں مذکور پیغامات کا سلسلہ صحیح ہے۔ ہم غیر مطلوب نمر گروپ میں شامل کیے جانے کی تحقیقات کر رہے ہیں"۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس معاملے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ... میں پہلی مرتبہ آپ لوگوں سے اس بارے میں سن رہا ہوں"۔

وائٹ ہاؤس میں ایک ذمے دار کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس حوالے سے ٹرمپ کو بریفنگ پیش کر دی گئی ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے پیغام رسانی گروپ میں جنگ کے پلان پوسٹ ہونے کی تردید کر دی ہے۔ ہوائی کے سرکاری دورے پر جاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "ٹیکسٹ میس کے ذریعے کسی نے بھی جنگ کے پلان نہیں ارسال کیے"۔

یاد رہے کہ امریکا رواں ماہ 15 مارچ سے یمن میں حوثیوں کے خلاف شدید فضائی حملے کر رہا ہے۔ اس دوران میں ان کے ٹھکانوں، اسلحہ گوداموں اور کمانڈروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکی صدر نے گذشتہ بدھ کے روز حوثیوں کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ حوثیوں کے لیے سپورٹ پیش کرنے کا سلسلہ روک دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں