گزشتہ 15 مارچ سے حوثیوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’’ USS ٹرومین ‘‘ کو 16 بار نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یاد رہے حوثیوں کے حملوں کے جواب میں 15 مارچ ہفتہ کی رات سے حوثیوں پر امریکی حملے جاری ہیں۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ اس بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور اسے کوئی نقصان پہنچا ہے۔ مبصرین امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’’ یو ایس ایس ٹرومین‘‘ کو ’’ سمندری دیو‘‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ بحری جہاز بہت سی عسکری صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔
اس بحری جہاز کو ایک موبائل آپریشن بیس کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا جو کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ امریکی بحریہ کے سب سے طاقتور فوجی ٹکڑوں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام تینتیسویں امریکی صدر ہیری ٹرومین کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اسے بنانے میں تقریباً پانچ سال لگے تھے۔ اسے 1998 میں باضابطہ طور پر سروس میں داخل کیا گیا تھا۔
85 طیارے لے جانے کی صلاحیت
اس بحری جہاز کا وزن تقریباً 116,000 ٹن ہے۔ یہ 333 میٹر لمبا اور 76.8 میٹر چوڑا ہے۔ مکمل طور پر لوڈ ہونے پر جہاز کا کل وزن تقریباً 97 ہزار ٹن ہو جاتا ہے ۔ یہ 34.5 میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ اس میں FA-18 سپر ہارنیٹ اور بوئنگ EA-18G گرولر سمیت مختلف ماڈلز کے تقریباً 85 ہوائی جہاز لے جانے کی صلاحیت بھی ہے۔ اس کے علاوہ مزید سپورٹ طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی ساتھ لے جائے جا سکتے ہیں۔ اس کا انتظام 3200 اور 200 افسران اور 2480 فضائی ونگ کے اہلکار سنبھالتے ہیں۔
میزائل لانچ سسٹمز
اس بحری جہاز پر میزائل لانچ سسٹمز موجود ہیں۔ ان میں گائیڈڈ میزائل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے دو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے سی سپروز اور دو رولنگ ایئر فریم میزائل لانچنگ سسٹم شامل ہیں۔
دفاع کے لیے طیارہ بردار بحری جہاز کے پاس تین عدد ’’ فیلانکس‘‘ سسٹم موجود ہیں۔ ایک قریبی ہتھیاروں کا نظام موجود ہے جو میزائلوں اور دشمن کے طیاروں کے خلاف آخری سطح کا دفاع فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس بحری جہاز کے پاس ایک دفاعی انگوٹھی ہوتی ہے جو اس کے ساتھ چلنے والے معاون جہازوں میں ہوتی ہے۔ اس بحری جہاز نے سروس میں داخل ہونے کے بعد سے بہت سی نمایاں جنگوں میں حصہ لیا ہے۔ بحری جہاز نے 1999 میں کوسوو جنگ، افغانستان اور عراق کی جنگیں، عراق اور شام میں داعش کے خلاف فوجی مہم میں شرکت کی ہے۔