سعودی عرب کی خلائی معیشت 2024 میں 33 ارب ریال تک پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے مواصلات اور خلائی ٹیکنالوجی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ مملکت کی خلائی معیشت کا حجم گزشتہ سال 33 ارب ریال تک پہنچ گیا۔ اس میں تمام قدر پیدا کرنے والی سرگرمیاں اور صنعتیں بشمول خلائی ٹیکنالوجیز اور خدمات شامل ہیں۔

رپورٹ "سعودی عرب میں سپیس مارکیٹ 2025" کے مطابق خلائی مارکیٹ 7.1 ارب ریال تک پہنچ گئی۔ اس کا مقصد مقامی اور عالمی خلائی منڈیوں میں پیشرفت اور نمو کو ظاہر کرنا، مارکیٹ کو ترقی دینا اور اس کی مسابقت کو بڑھانا ہے۔ اسی طرح اس شعبے میں سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کی حمایت کرنا اور خلائی شعبے میں امید افزا مواقع کو اجاگر کرنا بھی مقاصد میں شامل ہے۔

سعودی عرب کے کمیونیکیشن اینڈ سپیس ٹیکنالوجی کمیشن کے گورنر ڈاکٹر محمد بن سعود التمیمی نے کہا کہ قیادت کی اہم حمایت سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور قومی صلاحیتوں کو بااختیار بنانے میں تیزی لا رہی ہے۔ اس سے سعودی ویژن 2030 کے اہداف کو حاصل کرنے اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک مسابقتی اور پائیدار خلائی معیشت کے حصول میں مدد مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ خلائی شعبے کو ایک نئے اقتصادی انجن کے طور پر بااختیار بنانے کے لیے کمیشن کی کوششوں کی توسیع ہے اور ٹیکنالوجی اور جدت کے عالمی نقشے پر مملکت کی پوزیشن کو بہتر بنا رہی ہے۔ یہ رپورٹ فیصلہ سازوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے مستقبل کے رجحانات اور اس شعبے میں ترقی کے امید افزا مواقع کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ فراہم کر رہی ہے۔

رپورٹ میں سعودی عرب کی خلائی معیشت کی تیز رفتار نمو کا جائزہ لیا گیا۔ اس معیشت کے 2035 تک 119 ارب سعودی ریال تک پہنچنے کی توقع ہے۔ 6.7 ٹریلین سعودی ریال تک پہنچنے کی توقع کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں