جمعہ کی صبح ایک المناک حادثے نے مصری کھیلوں کی برادری کو ہلا کر رکھ دیا۔ نوجوان فٹ بال کھلاڑی یوسف الشیمی جو طلائع الجیش ٹیم کے سٹرائیکر تھے۔
قلیوبیہ گورنری کے شہر توخ میں ریلوے کراسنگ کراس کرتے ہوئے ٹرین کی زد میں آ کر موت کے منہ میں چلا گیا۔
ایک سی سی ٹی وی کیمرے نے اس لمحے کو قید کر لیا جب دو نوجوان بھاگے تھے۔ 16 سالہ الشیمی نے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس وقت کراسنگ عبور کرنے کی کوشش کی جب کوئی ٹرین گزر رہی تھی۔ ٹرین نے انہیں پرتشدد انداز میں ٹکر ماری اور ایک خوفناک منظر میں ان کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس حادثے نے رہائشیوں اور راہگیروں کو چونکا دیا۔ کھلاڑیوں کے طبقے میں اداسی چھا گئی۔
الشیمی کو طلائع الجیش کی نوجوان ٹیم میں ابھرتی ہوئی نمایاں صلاحیتوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ اس نے صرف چند سالوں میں اپنی قابلیت اور تکنیکی صلاحیت سے توجہ مبذول کر لی تھی۔ ان کے لیے مصری فٹ بال میں ایک امید افزا مستقبل کی نوید سنائی جا رہی تھی۔
تاہم کسے معلوم تھا کہ الشیمی کے خواب ایک ظالمانہ لمحے میں چکنا چور ہو جائیں گے۔ مصری فٹ بال کے آئیکنز کے تعزیتی پیغامات کے سیلاب کے درمیان طلائع الجیش کلب اور اس کی اکیڈمی پر غم اور افسوس کی کیفیت طاری ہوگئی۔