دہشت گرد گروپ کے طور پر پابندی ختم کی جائے: فلسطین ایکشن کی شریک بانی کا برطانیہ سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی حامی مہم کار گروپ کی شریک بانی نے پیر کے روز برطانوی حکومت کا فیصلہ چیلنج کر دیا جس کے تحت گروپ پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس اقدام کے بارے میں ان کے وکلاء نے کہا تھا، یہ "طاقت کے آمرانہ اور صریح غلط استعمال کی علامت ہے۔"

ہدیٰ اموری جنہوں نے 2020 میں فلسطین ایکشن کی بنیاد رکھنے میں مدد کی تھی، لندن کی ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس گروپ پر پابندی کو مکمل چیلنج کرنے کے لیے انہیں اجازت دے۔ پابندی اس بنیاد پر لگائی گئی کہ گروپ نے دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کیا یا ان میں حصہ لیا۔

اس مہینے کے شروع میں ہائی کورٹ نے پابندی روکنے کے لیے اموری کی درخواست مسترد کر دی تھی اور ایک آخری ناکام اپیل کے بعد پانچ جولائی کو نصف شب کے بعد ہی فلسطین ایکشن کی پابندی نافذ ہو گئی۔

اس کے تحت گروپ کا رکن بننا جرم ہے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال قید ہے۔

اموری کے وکیل رضا حسین نے کہا، فلسطین ایکشن پہلا براہِ راست ایکشن گروپ ہے جس پر دہشت گرد گروپ کے طور پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ان کے مطابق یہ اقدام "ہمارے ملک میں دیانتدارانہ بنیادوں پر سول نافرمانی کی معزز تاریخ" سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پابندی کے بعد سے درجنوں افراد کو مبینہ طور پر گروپ کی حمایت کرنے والے پلے کارڈز رکھنے پر گرفتار کیا گیا ہے اور اموری کے وکلاء نے کہا ہے کہ فلسطین کی حمایت کا اظہار کرنے والے مظاہرین کی جانچ پڑتال میں بھی پولیس افسران کی طرف سے اضافہ ہوا ہے۔

تاہم برطانیہ کے وزیرِ داخلہ یویٹ کوپر نے کہا ہے کہ جائز احتجاج میں تشدد اور مجرمانہ نقصان کی کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ کہ فلسطین ایکشن کی سرگرمیاں - بشمول ایک فوجی مرکز میں نقب زنی اور دو طیاروں کو نقصان پہنچانا - پابندی کا جواز پیش کرتی ہیں۔

فلسطین ایکشن نے برطانیہ میں اسرائیل سے منسلک کمپنیوں کو شدت سے نشانہ بنایا ہے۔

یہ گروپ غزہ میں جاری بمباری میں اسرائیلی جنگی جرائم میں برطانوی حکومت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتا ہے۔

اسرائیل نے بارہا غزہ جنگ میں جرائم کے ارتکاب سے انکار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں