ایران اور پاکستان کےدرمیان بلوچ مسلح گروہوں کےخلاف سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پراتفاق

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے پاکستانی آرمی چیف سے ٹیلیفونک گفتگو میں "دہشت گردی کے خاتمے اور مشترکہ سرحدوں کے تحفظ" پر زور دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران اور پاکستان کے فوجی سربراہان نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے پیر کے روز پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے رابطہ کیا۔

موسوی نے حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر پاکستانی عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو "مثالی اور برادرانہ" قرار دیا اور کہا کہ مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیشِ نظر تہران اسلام آباد کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے اور سرحدی سلامتی کے قیام کے لیے تیار ہے۔

ایرانی فوجی سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی ایران کے لیے مسلسل حمایت خاص طور پر اسرائیل کے خلاف ایران کے دفاع کے دنوں میں، یہ قابلِ قدر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے مشترکہ اقدامات ہوئے لیکن اب انھیں مزید مضبوط کرنے اور کمزوریوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب جنرل عاصم منیر نے ایران میں حالیہ دہشت گرد حملوں پر افسوس کا اظہار کیا اور سیستان و بلوچستان میں ایرانی پولیس اہل کاروں کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ مکمل اتفاق رکھتا ہے کہ سرحد کو "دوستی، بھائی چارے اور اقتصادی ترقی" کی علامت بنایا جائے اور مشترکہ تعاون سے یہ مقصد حاصل کیا جائے گا۔

سرحد کی دونوں جانب بلوچی گروہ

ایران اور پاکستان کے تعلقات بارہا کشیدہ رہے ہیں کیونکہ بلوچ مسلح گروہ دونوں جانب سرگرم ہیں۔ دونوں ممالک انہیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ گروہ سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔ ایران میں "جیش العدل" نمایاں بلوچ تنظیم ہے جس نے 26 جولائی کو زاہدان میں عدالت پر حملہ کیا تھا۔ اس کارروائی میں 6 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے، جب کہ تین حملہ آور بھی مارے گئے۔ 16 اگست کو اسی تنظیم نے ایرانشہر میں پولیس پر فائرنگ کر کے ایک اہل کار کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کیا۔

پاکستان میں "بلوچ لبریشن آرمی" (بی ایل اے) سب سے زیادہ سرگرم گروہ ہے۔ اگست کے آغاز میں اس نے بلوچستان میں سکیورٹی قافلے پر بم اور فائرنگ سے حملہ کیا جس میں کئی اہل کار مارے گئے اور کچھ زخمی ہوئے۔ پاکستانی حکومت نے اسے علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے کر کارروائی تیز کرنے کا اعلان کیا۔

یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک میں بلوچ گروہوں کا خطرہ بدستور قائم ہے، جس نے تہران اور اسلام آباد کو سکیورٹی تعاون بڑھانے اور مشترکہ لائحہ عمل تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں