براعظم افریقا کی 60% آبادی جڑی بوٹیوں سے علاج پر انحصار کرتی ہے
جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والی خاتون اہوا تیدو نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں بتایا کہ "ہم نے وباؤں اور بیماریوں کا شکار برادریوں میں کئی جانیں بچائی ہیں"۔
افریقا میں مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ تر جڑی بوٹیوں اور پودوں پر مبنی علاج استعمال کرتی ہیں۔ صدیوں سے جنگلات اور وادیاں افریقی خواتین کے لیے پناہ گاہ رہی ہیں، جہاں وہ اپنے بچوں کے علاج، دورانِ حمل و زچگی بیماریوں سے بچاؤ اور اپنے مردوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے نباتات تلاش کرتی رہی ہیں، خاص طور پر ان دیہی بستیوں میں جہاں روایتی معالج میسر نہیں ہوتے۔
افریقی خواتین نے براعظم کی متنوع قدرتی دولت کو بخوبی استعمال کیا اور مختلف پودوں اور جڑی بوٹیوں سے علاج کے لیے مہارت اور تجربہ حاصل کیا، جس سے وہ مؤثر اور تیز اثر رکھنے والی دوائیں تیار کرنے لگیں۔
آج بھی افریقا میں جڑی بوٹیوں کے ذریعے علاج کو بڑے پیمانے پر اپنایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق براعظم کی تقریباً 60 فی صد آبادی اس پر انحصار کرتی ہے، جن میں سب سے نمایاں خواتین ہیں، خواہ وہ بطور معالج ہوں یا مریض۔ افریقی ممالک میں کمزور صحت کے نظام کے باعث جڑی بوٹیوں سے علاج ہی اکثر اولین اور بعض اوقات واحد حل ہوتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے، جہاں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔
مؤثر علاجی نسخے
مالی میں، جہاں روایتی طب اپنی اہم جگہ رکھتی ہے، ہاوا تیدو نامی ایک روایتی معالجہ کا کہنا ہے کہ افریقی خواتین کی قدرتی علاج کی مہارت نے ایسی برادریوں میں بے شمار زندگیاں بچائی ہیں جو وباؤں، بیماریوں، تنازعات، صحت کے کمزور شعور، مضر روایات اور بیماری سے انکار کی ثقافت کا شکار رہی ہیں۔
ہاوا نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں بتایا "یہاں کی خواتین نے وقت کے ساتھ علاج کا علم وراثت میں پایا ہے۔ وہ پھل توڑنے اور جڑی بوٹیوں کے پتوں کو صحیح وقت پر جمع کرنے میں ماہر ہیں، اور ہر جزو کو باریک بینی سے تیار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قدرتی علاج اور روایتی طب میں ماہر شمار ہوتی ہیں۔"
گزشتہ 15 برسوں سے ہاوا دارالحکومت باماکو کی مارکیٹ میں جڑی بوٹیاں فروخت کر رہی ہیں۔ انھیں اس میدان میں برسوں کا تجربہ ہے اور ملک کے دیگر حصوں سے معالج ان کے پاس جڑی بوٹیاں لینے آتے ہیں، جب کہ عام خریدار اور بازار کے زائرین بھی ان کے مستقل گاہک ہیں۔
علم اور مہارت
ان کا کہنا ہے کہ یہ کام بظاہر آسان نظر آتا ہے مگر حقیقت میں مشکل ہے، کیونکہ اس کے لیے علم، مہارت اور باریک کاری گری درکار ہے تاکہ پودے سے مؤثر دوا کشید کی جا سکے۔ وہ بتاتی ہیں: "ہم پودوں کو کاٹنے یا کسان عورتوں سے خریدنے کے بعد نہایت احتیاط سے دھوتے ہیں، دھوپ میں سکھاتے ہیں، کچھ کو پیس کر بھر دیتے ہیں جبکہ باقی کو اسی حالت میں رکھتے ہیں۔"
ہاوا مزید کہتی ہیں "ہم بعض اوقات مختلف جڑی بوٹیاں اور قدرتی اجزا ملا کر ایسے نسخے تیار کرتے ہیں جو بیماریوں کے علاج میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو افریقی روایتی طب کو منفرد بناتی ہے، جس کے اعتراف میں عالمی ادارہ صحت نے 2003 سے اس کے لیے خصوصی دن مختص کر رکھا ہے۔"
روایتی طب کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ساتھ افریقا میں یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ جڑی بوٹیوں اور روایتی علاج کے طریقوں کو باقاعدہ دوا سازی کی صنعت میں شامل کیا جائے۔ خاص طور پر ان امراض کے علاج کے لیے جو بر اعظم میں زیادہ عام ہیں، تاکہ جڑی بوٹیوں کی مصنوعات کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے اور انھیں بطور مکمل دوا استعمال کیا جا سکے۔
-
کلنٹن دل کو جھٹکے دینے والے آلے کے ساتھ ... صحت کے حوالے سے خدشات دوبارہ نمودار
یہ سفری آلہ ہنگامی طور پر دل کو برقی جھٹکے دینے اور ان مریضوں کی نگرانی کے لیے ...
بين الاقوامى -
آپ کی خوراک آپ کی نیند پر کس قدر اثرانداز ہوتی ہے ؟
33 فیصد لوگ دن کے وقت شدید غنودگی کا شکار ہوتے ہیں، تعلق صحت کے بڑھتے خطرات سے ...
ایڈیٹر کی پسند -
دواؤں سے درست اور مؤثر طور استفادے کے لیے نئی 'سعودی امریکی' ایجاد
اسمارٹ کیپسول : طبِ شخصی کی دنیا میں انقلابی پیش رفت
مشرق وسطی