دواؤں سے درست اور مؤثر طور استفادے کے لیے نئی 'سعودی امریکی' ایجاد

اسمارٹ کیپسول : طبِ شخصی کی دنیا میں انقلابی پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب میں کنگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KACST) اور امریکہ میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کی ایک مشترکہ تحقیقی ٹیم ایک اسمارٹ کیپسول تیار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ یہ کیپسول کئی حصوں پر مشتمل ہے اور دن کے مختلف اوقات میں انسانی جسم میں بیک وقت مختلف دوائیں لے جانے اور چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایجاد طبِ شخصی (Personalized Medicine) کے میدان میں نئے امکانات کا دروازہ کھولے گی اور مریضوں کے علاج کے تجربے کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

یہ کیپسول ایک پروگرام شدہ نظام پر کام کرتا ہے جو دواؤں کو نہایت درست مقدار میں اور مختلف وقتوں پر ایک ہی کیپسول کے اندر سے فراہم کرتا ہے۔

امید ہے کہ یہ جدت مریضوں کے علاج کے ساتھ باقاعدگی میں اضافہ کرے گی۔ بالخصوص ان مریضوں میں جنھیں روزانہ ایک سے زیادہ دوائیں استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں علاج کی مؤثریت اور مریضوں کی زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

یہ کیپسول جسے امریکی پیٹنٹ بھی حاصل ہو چکا ہے، اندرونی طور پر اسمارٹ پولیمرک رکاوٹیں رکھتا ہے جو دواؤں کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھتی ہیں اور مریض کی ضرورت کے مطابق انھیں چھوڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کیپسول فوری درد سے آرام یا ہنگامی حالات میں فوری رد عمل کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ طریقہ دواؤں کے آپس میں ٹکراؤ، خوراک چھوٹ جانے یا زائد مقدار کے استعمال کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ یہ سب مسائل دنیا بھر میں نصف دائمی مریضوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ بات عالمی ادارہ صحت کے تخمینے بتاتے ہیں۔

کنگ عبداللہ سٹی کی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر امل عباس نے کہا "ہمارا مقصد دواؤں کے استعمال کو آسان بنانا ہے تاکہ درست دوا، درست مقدار اور درست وقت پر مریض کو مل سکے۔ اس طرح نہ صرف فضول خرچی کم ہو گی بلکہ مریض کا علاج بھی باقاعدہ اور بہتر ہو جائے گا۔"

انھوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی کلینیکل ٹیسٹ کے نتائج خاص طور پر پارکنسن کے مریضوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوئے ہیں، جہاں اس کیپسول نے علامات پر قابو پانے والی دواؤں کے اثر کو بہتر بنایا۔

اس ایجاد کے فوائد صرف مریضوں کی صحت تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ صحت کے نظام پر بھی مثبت اثر ڈالے گی۔ توقع ہے کہ علاج میں عدم باقاعدگی کے باعث آنے والے اخراجات میں 20 فی صد تک کمی آئے گی اور اسپتالوں کے آپریشنل بوجھ میں 8 فی صد تک کمی واقع ہو گی۔ یہ جدت سعودی وژن 2030 کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد طبی اختراعات کو فروغ دینا اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔

تحقیقی ٹیم فی الحال ریگولیٹری تقاضوں پر کام کر رہی ہے تاکہ پری کلینیکل ٹرائلز کے بعد وسیع پیمانے پر کلینیکل تجربات کا آغاز کیا جا سکے۔

محققین کو امید ہے کہ آنے والے چند برسوں میں یہ ایجاد مریضوں کے روزانہ کے دواؤں کے استعمال کے عمل کو آسان بنا کر صحت کی نگہداشت کے معیار کو بہتر بنائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں