"تاریخی لمحہ"... لندن میں سفارتی مشن پر فلسطین پرچم لہرا گیا

برطانوی حکومت نے اپنی سرکاری ویب سائٹ کے نقشوں کی تجدید کر کے ان پر "فلسطین" درج کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بلجیم آج (پیر کے روز) فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے جا رہا ہے۔ اس طرح وہ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کی صف میں شامل ہو جائے گا۔

"تاریخی لمحہ"

ادھر برطانیہ کے دار الحکومت لندن میں فلسطینی مشن کی عمارت پر فلسطینی پرچم لہرایا گیا۔

تصویری مناظر میں عمارت پر پرچم کشائی کی تیاریاں دیکھی گئیں۔

لندن میں فلسطینی سفیر حسام زملط نے برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو "تاریخی لمحہ" قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ صرف فلسطین سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ فلسطینی عوام پر ڈھائے گئے تاریخی مظالم کے خاتمے اور ان کے حقِ خود ارادیت کے مکمل اعتراف سے جڑا ہوا ہے۔

یہ پیش رفت اس کے بعد ہوئی جب برطانوی حکومت نے اپنی سرکاری ویب سائٹ کے نقشوں کو اپ ڈیٹ کیا۔ پہلے وہاں "مقبوضہ فلسطینی علاقے" لکھا ہوتا تھا، لیکن اب اس کی جگہ "فلسطین" درج کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح برطانوی وزارتِ خارجہ کے بعض ویب صفحات پر بھی "مقبوضہ فلسطینی علاقے" کی جگہ "فلسطین" لکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ سات بڑی معیشتوں کے گروپ (G7) میں تیسرا ملک ہے جس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، اس سے قبل کینیڈا اور آسٹریلیا یہ اعلان کر چکے ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایک کانفرنس ہونے والی ہے، جس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس کر رہے ہیں۔ یہاں کئی ممالک، بالخصوص فرانس کی قیادت میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔

شدید رد عمل

اس اقدام پر اسرائیل میں شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے رہنماؤں کے نام اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا "فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہو گی"۔

اس سے قبل بھی نیتن یاہو اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اقوامِ متحدہ میں اس فیصلے کے خلاف لڑیں گے، ان کے مطابق "فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہے"۔

دوسری جانب امریکا نے اس اقدام کو "نمائش" قرار دیا۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا "ہم اب بھی سنجیدہ سفارت کاری اور اسرائیل کی سلامتی کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں