مصر : الاقصر کو روشن کر دینے والا منظر .... الکرنک کے عبادت خانوں پر عمودی رخ پر پڑتا سورج

قدیم طیبہ یعنی موجودہ شہر اقصر ان اولین شہروں میں شامل تھا جنھوں نے فلکیاتی علوم میں دل چسپی لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کے صوبے الاقصر میں سیاحت سے منسلک حلقے آج پیر کو ایک اہم فلکیاتی منظر کا جشن منا رہے ہیں جو اعتدالِ خریفی (Autumnal Equinox) سے وابستہ ہے۔ اس کا مشاہدہ "الکرنک عبادت گاہ" میں کیا جا رہا ہے۔

آج دوپہر کا سورج تاریخی شہر الاقصر میں واقع الکرنک کے قدیم معبد پر عموداً پڑ رہا ہے۔

مصری ایسوسی ایشن فار ٹورازم اینڈ آرکیالوجی ڈیولپمنٹ کے صدر ایمن ابو زید نے بتایا کہ سورج کی کرنیں معبدِ شاہ رعمسیس سوم اور معبدِ دیوتا پتاح کے مقدس کمروں کو روشن کر دیں گی، جو موسمِ خزاں کی شروعات کا اعلان ہے۔

انھوں نے جرمن خبر رساں ایجنسی (ڈی پی اے) کو بتایا کہ معبدوں کے مقدس کمروں پر سورج کی شعاعیں نہایت درست اور متعین زاویے سے پڑتی ہیں تاکہ اعتدالِ خریفی کی ابتدا سے ہم آہنگ رہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ کرنک کے معابد فلکیاتی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی تعمیر کا تعلق اجرامِ فلکی کے گردش سے تھا۔ یہ معابد قدیم دنیا کی سب سے اہم فلکیاتی رصد گاہوں میں شمار ہوتے تھے۔

ایمن ابو زید کے مطابق قدیم شہر طیبہ (موجودہ الاقصر) ان اولین شہروں میں شامل تھا جنھوں نے فلکیاتی علوم کو اہمیت دی۔ یہاں قدیم مصریوں نے کئی رصد گاہیں قائم کیں جن کے ذریعے وہ کائنات کے اسرار جاننے کی کوشش کرتے تھے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ الاقصر، جو سیکڑوں مقبروں اور درجنوں معبدوں سے مالا مال ہے اور جنھیں قدیم مصر کے بادشاہوں اور امراء نے تعمیر کیا تھا، فلکیاتی مظاہر کی ایک بڑی تعداد کی میزبانی کرتا ہے۔ ان میں سے کچھ مذہبی اور دنیوی تقریبات سے وابستہ تھے اور بعض کا تعلق فلکیاتی واقعات مثلاً موسموں کی شروعات سے تھا۔

مصری محققین نے ان فلکیاتی مظاہر کا مشاہدہ اور دستاویزی ریکارڈ تیار کیا ہے جو مشرقی و مغربی الاقصر کے قدیم معابد میں نظر آتے ہیں۔ ان میں کرنک، ہابو، الدیر البحری اور ایزِس کے معبد شامل ہیں، جو "دیر شلویط" کے نام سے مشہور ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں