جمی کیمل کی معذرت ... ٹرمپ کی جانب سے عدالتی کارروائی کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی مزاحیہ میزبان جِمی کیمِل تقریبا ایک ہفتے کے وقفے کے بعد منگل کی شب نشر ہونے والے اپنے ٹاک شو میں واپس آئے۔ اس موقع پر وہ تقریباً آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ ان کا کبھی یہ مقصد نہیں تھا کہ قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل پر کوئی مذاق کریں۔

کِمِل نے کہا "میرا کسی کا ذہن بدلنے کا وہم نہیں ہے، لیکن میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ میرے لیے بطور انسان اہم ہے اور وہ یہ کہ آپ سمجھیں کہ میرا کبھی یہ ارادہ نہیں تھا کہ ایک نوجوان کے قتل کو معمولی بنا کر پیش کروں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی مزاحیہ پہلو ہے۔"

انھوں نے مزید کہا "میری نیت کسی خاص گروہ کو اس شخص کے عمل کا ذمے دار ٹھہرانے کی بھی نہیں تھی، جو واضح طور پر شدید ذہنی مسائل کا شکار تھا۔ دراصل یہ اس پیغام کے بالکل برعکس تھا جو میں دینا چاہتا تھا۔"

کِمِل نے اعتراف کیا کہ ان کے گزشتہ ہفتے کے تبصرے بعض لوگوں کو "یا تو وقت کے لحاظ سے نا مناسب یا مبہم لگے، یا دونوں باتیں ایک ساتھ ہوئیں۔"

انھوں نے اپنے شو کو روکنے کے فیصلے پر اے بی سی نیٹ ورک پر تنقید کی اور کہا "یہ غیر قانونی ہے، یہ امریکی اصولوں کے خلاف ہے، یہ امریکا کی اقدار کے خلاف ہے۔"

کِمِل نے ان افراد کا شکریہ بھی ادا کیا جنھوں نے ان کا ساتھ دیا، حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو انھیں پسند نہیں کرتے لیکن اظہارِ رائے کے حق میں کھڑے ہوئے۔ ان میں ریاست ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا "اس انتظامیہ کے خلاف بولنے کے لیے ہمت چاہیے، اور جنھوں نے ایسا کیا وہ تعریف کے مستحق ہیں۔"

کِمِل نے اپنے تبصروں میں ٹائلر روبنسن کا ذکر کیا، جو کارکن چارلی کرک کے قتل میں ملوث تصور کیا جاتا ہے۔ روبنسن ایک ریپبلکن خاندان میں پلا بڑھا تھا اور اس نے اپنی کارروائی کی وجہ وہ "نفرت" بتائی تھی جو اس کے بقول کرک پھیلا رہا تھا۔

کِمِل نے 15 ستمبر کی قسط میں کہا تھا "ہم نے گزشتہ ویک اینڈ پر پستی کی ایک نئی سطح دیکھی، جب مگا گروپ (ٹرمپ کے حامی) نے بھرپور کوشش کی کہ اس نوجوان کو، جس نے چارلی کرک کو مارا، کسی بھی چیز کے طور پر پیش کریں سوائے اس کے کہ وہ انھی میں سے ایک تھا، اور اس واقعے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔"

پیر کو ڈزنی کی جانب سے جاری بیان میں وضاحت کی گئی کہ پروگرام کو عارضی طور پر اس لیے روکا گیا تاکہ "اس نازک وقت میں ملک میں کشیدگی کو مزید ہوا نہ دی جائے۔"

ٹرمپ کی تنقید اور عدالتی کارروائی کی دھمکی

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے بی سی کے اس فیصلے پر تنقید کی کہ جِمی کِمِل کا پروگرام دوبارہ نشر کیا جائے، حالانکہ گزشتہ ہفتے ریگولیٹری اتھارٹی کے دباؤ پر اسے اچانک روک دیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی دھمکی بھی دی۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ٹرمپ نے اے بی سی پر الزام لگایا کہ وہ "ڈیموکریٹس کے حق میں 99 فی صد فضول مثبت خبریں نشر کرتا ہے۔" انھوں نے کیمِل کو "ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کا ایک اور ہتھیار" بھی قرار دیا۔

ٹرمپ نے کہا "مجھے لگتا ہے کہ ہم اے بی سی کو اس معاملے میں آزما کر دیکھیں گے۔ دیکھتے ہیں ہم کیا کرتے ہیں۔ پچھلی بار جب میں نے ان پر مقدمہ کیا تو انھوں نے مجھے 1.6 کروڑ ڈالر دیے تھے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں