عراقچی کی فرانسیسی ہم منصب سے بات چیت ... ایرانی صدر نے مذاکرات کی نوعیت پر سوال اٹھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کی ملاقات کے ساتھ ہی ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کی نوعیت پر سوال اٹھایا کہ ایران اپنے وعدوں پر قائم رہتا ہے لیکن دوسرے فریق معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

"مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ ہوا"

پزشکیان نے نیویارک میں جنگ مخالف کارکنوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ "ہم مذاکرات کے بیچ میں تھے جب ہم پر صہیونی نظام نے حملہ کیا۔" انھوں نے کہا کہ ایران نے جوہری معاہدے پر دستخط کے بعد اپنی ذمے داریاں پوری کیں، لیکن "معاہدے کے چیتھڑے کس نے اڑائے؟"۔ ان کا اشارہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب تھا جو اپنی پہلی مدتِ صدارت میں یک طرفہ طور پر معاہدے سے نکل گئے تھے۔ پزشکیان نے سوال اٹھایا "یہ کیسی بات چیت ہے جس میں ہمیں تو اپنے عہد نبھانے ہوں اور وہ کسی چیز کے پابند نہ ہوں؟"
انھوں نے پہلے بھی اس امر پر افسوس ظاہر کیا تھا کہ یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات توقعات کے مطابق نہیں رہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا کہ امریکہ کی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش غیر سنجیدہ اور لاحاصل دکھائی دیتی ہے۔

پابندیوں کی واپسی

دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے بدھ کی شب العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے آئندہ چند گھنٹوں میں ایسے عملی اقدامات نہ کیے جن سے بین الاقوامی معائنہ کاروں کی جوہری تنصیبات تک رسائی بحال ہو، تو ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

اس سے قبل عباس عراقچی نے یورپی ٹرائیکا (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ سے بھی ملاقات کی تھی ... جبکہ پزشکیان نے بھی ماکروں سے جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاقات میں جوہری معاملے پر گفتگو کی۔

یہ پیش رفت اس پس منظر میں ہوئی ہے کہ یورپی ٹرائیکا نے اگست 2025 کے اواخر میں "اسنیپ بیک میکانزم" متحرک کرتے ہوئے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کی کارروائی شروع کر دی تھی۔ تہران کو ایک آخری موقع دیا گیا تا کہ ستمبر کے آخر تک کسی اتفاق رائے تک پہنچا جا سکے۔

یورپی طاقتوں نے حال ہی میں یہ تجویز بھی دی تھی کہ اگر ایران دوبارہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دیتا ہے، یورینیم کے ذخیرے سے متعلق خدشات دور کرتا ہے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوتا ہے تو پابندیوں کی واپسی کو چھ ماہ تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایران نے ان شرائط کو غیر قانونی اور نا جائز دباؤ قرار دے کر مسترد کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں