پیرس کی فوجداری عدالت نے فرانس کے سابق صدر نیکولا سارکوزی کو لیبیا کے مقتول رہنما معمر قذافی سے غیر قانونی فنڈز لینے کے الزام میں "جرائم میں شریک ہونے" کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قذافی نے 2007 کی کامیاب صدارتی انتخابی مہم کے لیے لاکھوں یورو فراہم کیے تھے۔
استغاثہ کا الزام تھا کہ سارکوزی نے 2005 ءمیں جب وہ وزیر داخلہ تھے قذافی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تاکہ اس کی انتخابی مہم کو مالی معاونت ملے اور اس کے بدلے اس وقت کی لیبیا کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سہارا دیا جائے۔
عدالت نے انہیں باقی تمام الزامات سے بری کر دیا، تاہم حتمی فیصلہ ابھی جاری ہونا باقی ہے۔
غیر قانونی فنڈنگ کے الزامات
سنہ 2007ء سے 2012ء تک فرانس کے صدر رہنے والے سارکوزی پر الزام تھا کہ انہوں نے سابق لیبیائی نظام سے لاکھوں یورو بطور غیر قانونی انتخابی فنڈ حاصل کیے۔
اس مقدمے میں وہ مزید 12 ملزمان کے ساتھ کٹہرے میں ہیں، جن پر غیر قانونی انتخابی فنڈنگ سرکاری رقوم کے ضیاع اور رشوت ستانی جیسے الزامات عائد ہیں۔
ملزمان میں سابق وزرائے داخلہ کلود جیان اور بريس اورتی فو، جبکہ سابق وزیرِ محنت ایرک وورث بھی شامل ہیں۔
دس سال قید اور بھاری جرمانہ
اگر جرم ثابت ہو گیا تو سارکوزی کو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ دیگر کئی شریک ملزمان کو بھی اتنی ہی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اس مقدمے کی تفتیش کے دوران فرانس نے 21 مختلف ممالک سے قانونی تعاون طلب کیا تھا۔