صدر ٹرمپ کی غزہ کے مستقبل کے لیے جاری وسیع تر مشاورت اور منصوبوں کے سلسلے میں پیش رفت میں یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ بعد از جنگ غزہ کی دیکھ بھال اور انتظام و انصرام کے امور کے سلسلے میں قیادت سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کریں گے۔
ٹونی بلیئر، جو کہ بش دور سے امریکہ کے آزمائے ہوئے ساتھی ہیں، اب غزہ میں امریکہ کے لیے امن منصوبے کو آگے بڑھائیں گے۔ یہ انکشاف برطانوی میڈیا میں جمعہ کے روز سامنے آیا ہے۔
اس پس منظر میں ٹونی بلیئر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کئی مشاورتی میٹنگز میں شامل رہے ہیں۔ یہ غزہ ریویرا کے حوالے سے شہرت پانے والی ٹیم تھی۔
غزہ کے مستقبل کے لیے حالیہ دنوں میں ایک اہم میٹنگ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے زیر صدارت ہوئی تو اس میں ٹرمپ کے داماد کے علاوہ ٹونی بلیئر بھی موجود تھے۔ خیال رہے برطانیہ میں آج کل لیبر پارٹی کی حکومت ہے۔ مگر ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ کے حوالے سے اپنا فطری جھکاؤ برطانیہ کی ٹوری پارٹی کی طرف ہی رکھا ہوا ہے۔
فنانشل ٹائمز ٹونی بلیئر عرب دنیا کے مسائل سے نمٹنے کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ 2007 سے 2015 کے درمیان مشرق وسطی میں امن کے لیے سپروائزری بورڈ کا حصہ بھی رہے ہیں۔
یاد رہے عراق جنگ کے سلسلے میں بھی بہت اہم خدمات انجام دے چکے ہیں۔ان کے زیر قیادت کام کرنے والا ادارہ ' انسٹیٹیوٹ فار گلوبل چینج ' نئی اطلاعات پر تبصرے سے گریزاں ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے اس بارے میں پچھلے ہفتے کچھ رپورٹس شائع کی تھیں جن میں ٹونی بلیئر کے ٹرمپ سے جڑے ہونے کا بتایا گیا تھا۔تاکہ امریکی امن کا خواب غزہ میں مکمل کرنے میں کردار ادا کر سکیں۔
وہ اس بات کے حامی ہیں کہ غزہ میں کوئی بھی عبوری گورننگ باڈی بالآخر مغربی کنارے میں رام اللہ کی فلسطینی اتھارٹی کو ہی اقتدار منتقل کرے گی۔
'دی اکانومسٹ' نے ایک رہورٹ میں کہا غزہ بین الاقوامی عبوری اتھارٹی کے نام سے جانا جانے والا ادارہ فلسطینیوں کو انتظامی اختیارات سونپنے سے پہلے پانچ سال کے لیے اعلیٰ سیاسی اور قانونی اتھارٹی قائم کی جائے گی جس کے لیے اقوام متحدہ سے مینڈیٹ حاصل کیا جانا ضروری ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق اس اتھارٹی کا سیکرٹریٹ 25 افراد پر اور بورڈ سات افراد پر مشتمل ہو گا۔
بی بی سی بھی اس منصوبے سے آگاہ ہے۔ اس کی رپورٹ کے مطابق یہ انتظامی باڈی ابتدائی طور پر مصر میں مقیم ہو گی اور بعد ازاں غزہ کے محفوظ ہونے پر غزہ میں منتقل ہو جائے گی۔
موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے جمعہ کے روز ٹونی بلیئر کو ایک حیرت انگیز شخصیت کا نام دیا اور کہا وہ مجھے پسند ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ یہ بہت بڑی ذمہ داری لینے کو تیار ہے، میرے خیال میں غزہ کے لیے ایک امید پیدا ہو جائے گی۔ کیونکہ بلیئر اس بوجھ کو مضبوطی سے برداشت کر سکتے ہیں۔