غزہ میں اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی ’انروا‘ کے ترجمان عدنان ابو حسنہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں چند تجارتی اشیا کو غزہ داخل کرنے کی اجازت دی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش اور ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ عام شہری انہیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔
انہوں نے ’’العربیہ/الحدث‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی بہتر ہم آہنگی کے لیے ایک منظم انتظامی ڈھانچے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ’انروا‘ تمام تر مشکلات کے باوجود بنیادی خدمات کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہے۔
عدنان ابو حسنہ نے بتایا کہ ایجنسی نے غزہ کی پٹی میں اپنے سکولوں میں تین لاکھ طلبہ کو دوبارہ تعلیم کے عمل سے جوڑنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جو تعلیمی سرگرمیوں کی بتدریج بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
الأونروا للعربية:
— العربية (@AlArabiya) October 20, 2025
* إسرائيل سمحت بدخول بعض البضائع للتجار في غزة
* الأسعار في غزة مرتفعة للغاية ولا يستطيع السكان شراء البضائع #نشرة_العاشرة #قناة_العربية pic.twitter.com/uc82CnIkrd
تین لاکھ طلبا کی بحالی
ان کا کہنا تھا کہ اونروا کے پاس تین ماہ تک کے لیے غزہ کے عوام کے لیے امدادی سامان سے لدی گاڑیاں تیار موجود ہیں، تاہم اسرائیلی حکام نے تاحال انہیں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
جاری جنگ نے غزہ کو ایک تباہ کن انسانی المیے میں دھکیل دیا ہے، جہاں تقریباً تمام باشندے اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ عالمی بھوک مانیٹرنگ ادارے کے مطابق، غزہ میں قحط کی صورتحال جنم لے چکی ہے اور صحت کے ادارے بگڑتی حالت سے مؤثر طور پر نمٹنے سے قاصر ہیں۔