اسرائیل نے غزہ میں محدود پیمانے پرسامان داخلے کی اجازت دی،قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی ’انروا‘ کے ترجمان عدنان ابو حسنہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں چند تجارتی اشیا کو غزہ داخل کرنے کی اجازت دی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش اور ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ عام شہری انہیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

انہوں نے ’’العربیہ/الحدث‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی بہتر ہم آہنگی کے لیے ایک منظم انتظامی ڈھانچے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ’انروا‘ تمام تر مشکلات کے باوجود بنیادی خدمات کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہے۔

عدنان ابو حسنہ نے بتایا کہ ایجنسی نے غزہ کی پٹی میں اپنے سکولوں میں تین لاکھ طلبہ کو دوبارہ تعلیم کے عمل سے جوڑنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جو تعلیمی سرگرمیوں کی بتدریج بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے۔

تین لاکھ طلبا کی بحالی

ان کا کہنا تھا کہ اونروا کے پاس تین ماہ تک کے لیے غزہ کے عوام کے لیے امدادی سامان سے لدی گاڑیاں تیار موجود ہیں، تاہم اسرائیلی حکام نے تاحال انہیں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

جاری جنگ نے غزہ کو ایک تباہ کن انسانی المیے میں دھکیل دیا ہے، جہاں تقریباً تمام باشندے اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ عالمی بھوک مانیٹرنگ ادارے کے مطابق، غزہ میں قحط کی صورتحال جنم لے چکی ہے اور صحت کے ادارے بگڑتی حالت سے مؤثر طور پر نمٹنے سے قاصر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں