دوسری فرانسیسی خاتون کو جمعرات کو 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ خاتون کو داعش کے ارکان اور بے گھر افراد کے شامی کیمپوں سے وطن واپس لایا گیا۔
تیس سالہ کیرول سن کو پیرس کی ایک خصوصی فوجداری عدالت نے دہشت گردی کی مجرمانہ سازش میں حصہ لینے کا مجرم قرار دیا تھا۔
وہ جولائی 2014 میں اپنے بھائی کے ساتھ شام کے لیے فرانس سے روانہ ہوئی تھی اور دسمبر 2017 میں جب داعش کی خود ساختہ خلافت کا خاتمہ ہو رہا تھا تو انہیں کرد افواج نے گرفتار کر لیا تھا۔
اس کے بعد انہیں اور دیگر خواتین کو ادلب کے حراستی کیمپوں میں رکھا گیا تھا۔ سن پانچ جولائی 2022 کو فرانسیسی شہریوں کی پہلی وطن واپسی کے دوران فرانس واپس آئیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں آن لائن بنیاد پرست بنایا گیا ہے۔
جج نے کہا کہ مدعا علیہ "انتہائی اعلیٰ سطحی افراد" کو جانتی یا ان کے ساتھ رہتی تھیں جو "ظالمانہ" کارروائیوں یا نومبر 2015 کے پیرس حملوں سے تعلق رکھنے والی یونٹوں میں لڑائی کے لیے معروف تھے۔
سن کی دوسری شادی داعش انٹیلی جنس سروس کے ایک رکن سے ہوئی جس کے بارے میں انہوں نے ایک بار اپنی والدہ کو لکھا تھا کہ وہ "غداروں کو مارتا ہے۔"
شوہر بھی ان کے بھائی کی طرح اس وقت عراق میں قید ہے۔
مدعا علیہ نے جج کو بتایا کہ داعش کے نظریات نے 'مجھے یہ دیکھنے سے روکے رکھا' کہ ارد گرد رونما ہونے والے واقعات کتنے 'سنگین' تھے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے گروپ کے "پروپیگنڈے" میں "کردار ادا کیا"۔
انہوں نے کیمپ میں اپنے اردگرد کے "خوفناک" لوگوں کا بھی ذکر کیا جہاں انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش میں چار سال سے زیادہ وقت گذارا۔
سن نے کہا، "یہ ایک جنگل کی طرح ہے۔ وہاں اخلاقی جنگ جاری ہے حتیٰ کہ بچوں کے درمیان بھی۔"
تقریباً 60 خواتین پر اسی طرح کے الزامات کے تحت مقدمہ چلنا ابھی باقی ہے۔
سرکاری وکیل کے مطابق شام کے علاقے میں جانے والی فرانسیسی خواتین میں سے ایک تہائی سے زیادہ واپس آچکی ہیں اور 2017 سے اب تک 30 کے خلاف خصوصی عدالت میں جبکہ دیگر کے خلاف فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جا چکا ہے۔